60

خیبر پختونخوا کے20اضلاع میں373سرکاری تعلیمی ادارے مستقل سرکاری عمارت سے محروم

 پشاور( نمائندہ آواز)خیبر پختونخوا کے20اضلاع میں373سرکاری تعلیمی ادارے مستقل سرکاری عمارت سے محروم رہنے اور کرائے کی عمارتوں میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا انکشاف ہوا ہے جن میں 355پرائمری سکول، 11مڈل اور7 ہائی سکول شامل ہیں 373سرکاری تعلیمی اداروں کیلئے مستقل سرکاری عمارت نہ ہونے اور کرائے کی عمارت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی وجہ سے حکومت کوکرائے کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے صوبائی اسمبلی کو فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق مانسہرہ میں سب سے زیادہ45سرکاری تعلیمی ادارے کرائے کی عمارت میں ہے.

اسی طرح چارسدہ میں30اورڈیرہ اسماعیل خان میں ان سکولوں کی تعداد43ہے کرائے کی عمارتوں میں قائم سکولوں میں بنوں میں ایک،چترال میں2، ایبٹ آباد میں35،، کرک میں 8،کوہاٹ میں30، مردان میں21، ملاکنڈ میں 2،نوشہرہ میں30، پشاورمیں26، سوات میں19، صوابی میں30، لکی مروت میں5، ٹانک میں 7،بٹگرام میں4،ہنگومیں ایک ،شانگلہ میں30اور ہری پور میں3 سکولز شامل ہیں کرایوں کی عمارت میں قائم سکولوں میں بڑی تعدادپرائمری سکولوں کی ہے جن کی تعداد355ہے اسی طرح گیارہ مڈل سکولزجن اضلاع میں قائم ہیں.

ان میں 2شانگلہ،ایک بٹگرام،ایک ہری پور،3مانسہرہ،2سوات اور 2ایبٹ آباد میں واقع ہیں جبکہ ایبٹ آباداورمانسہرہ میں ایک ایک ،سوات میں 2اور شانگلہ میں3 ہائی سکولزکرائے کی عمارتوںمیں قائم ہیں دستاویزات کے مطابق خیبر پختو نخوا حکومت صوبہ بھر کے مختلف پرانے سکول گراکرازسرنوتعمیر کررہی ہے جس کیلئے خیبر پختو نخوا حکومت اوربرطانوی حکومت نے وفاقی حکومت کے ذریعے ایک معاہدہ کیاہے جس کے تحت کل283ملین پائونڈزمیں تعلیم کی بہتری کیلئے فراہم کئے جائینگے.

معاہدے کے تحت سکولوں میں بنیادی سہولیات،نئے کمروں کی تعمیر اوردوبارہ بحالی معیاری بنانے کیلئے تقریباً60ملین پائونڈزفراہم کئے جائینگے جبکہ اس کے علاوہ ہم قدم کے ذریعے صوبے کے202ہائرسکینڈری سکولوں کو معیاری بنایا جا رہاہے اورتقریباً216پرائمری،مڈل،ہائی سکولوں میں تعمیرنووبحالی کاکام کیاجائے گا معاہدے کے تحت صوبے کے تین اضلاع میں اب تک116مڈل اورپرائمری سکول کی تعمیرکاکام مکمل ہوچکاہے جن میں 45 چارسدہ ، مردان میں 55 اور پشاور میں 16 سکولز شامل ہیں 100سکولوں میں تعمیراتی کام جاری ہے جبکہ202سکولوں ی عمارتوں کو صرف مضبوط کیاجارہاہے۔

یاد رہے کہ صوبے کے شمال میں واقع جڑواں اضلاع دیر لوئر اور دیر اپر اس فہرست میں شامل نہیں. عرصہ دراز سے ان دو اضلاع پر ملک گیر دینی پارٹی جماعت اسلامی کا ہولڈ ہیں. سوشل میڈیا صارفین جڑواں اضلاع میں سرکاری سکولوں میں بہتری کا کریڈیٹ جماعت اسلامی کو دیتی ہے. جبکہ جماعت اسلامی کے ورکرز سماجی رابطوں کے ویب سائٹس پر اس کی تشہیر کرتے چلے آرہے ہیں.

                        ا
Facebook Comments