90

وقت ہاتھ سے نکل رہاہے،2018 کے عام انتخابات کا انعقاد وقت پر نہیں ہوسکے گا،آئینی ماہرین کے حیرت انگیزانکشافات

چکوال (مانیٹرنگ ڈیسک) 2018 کے عام انتخابات کا انعقاد نئی حلقہ بندیوں سے مشروط ہے اور آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ حلقہ بندیاں بروقت نہ کی گئیں تو2018کے انتخابات بروقت نہیں ہو سکیں گے۔2نومبر کو شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حلقہ بندیوں کے حوالے سے بل آخری مرحلے میں ہے۔ملک بھر میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد اگر 300کر دی گئی تو پھر قومی اسمبلی کا حلقہ چھ سے سات لاکھ کیآبادی پر مشتمل ہوگا اور اگر اتنی آبادی کا قانون بنایا جانا اس لیے ضروری ہوگیا ہے کہ نئی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی ساڑھے 21کروڑ ہے اور آبادی کے حوالے سے حلقہ بندی کی گئی تو پھر سات لاکھ کی آبادی پر ہی قومی اسمبلی کا حلقہ ہوگا جبکہ صوبائی اسمبلی کا حلقہ پونے تین لاکھ اورساڑھے تین لاکھ کی آبادی پر ہوگا۔ اس انداز میں قانون سازی کردی گئی تو پھر ضلع چکوال میں کسی بھی نئے حلقے کا قیام ناممکن ہوگا۔ 1998کی مردم شماری کے مطابق ضلع چکوال کی آبادی ساڑھے دس لاکھ کے قریب تھی جبکہ اب نئی مردم شماری میں ضلع چکوال کی آبادی15لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ سات لاکھ پر اگر قومی اسمبلی کے حلقے کی تشکیل ہوئی تو پھر نیا قومی اسمبلی کا حلقہ بننے کے امکانات کم ہیں۔ البتہ صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے بڑھنے کے امکانات روشن ہیں۔ بہرحال نئی قانون سازی کے بعد ہی صورتحال واضع ہوکر سامنے آئے گی۔ تمام نظریں اسلام آباد پر ہیں جہاں پر نومبر کے ابتدائی دس دنوں میں حلقہ بندیوں کے حوالے سے قانون سازی کا عمل پہلے قومی اسمبلی اور پھر سینٹ میں مکمل کیا جانا ہے۔ معتبر حلقوں نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے، تھوڑی بہت میم میخ درست کرنے کی ضرورت ہوگی
Facebook Comments