81

تحریک انصاف نے این اے 4 کا معرکہ سر کر لیا،غیر سرکاری نتائج کے مطابق ارباب عامر کامیاب

پشاور(آئی این پی)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 4پشاور چار کے ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے میدان مار لیا ، عامر ایوب نے واضح برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کرلی ، اے این پی ، (ن) لیگ ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی سمیت تمام جماعتیں مات کھا گئیں، کوئی بڑا ووٹ حاصل نہ کرسکیں ،کل 269پولنگ اسٹیشنوں میں سے 252کے نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار عامر ایوب 42ہزار 963 ووٹ لے کر پہلے (ن) لیگ کے ناصر خان موسیٰ 23ہزار 412ووٹ لیکر دوسرے ،اے این پی کے خوشدل خان 23ہزار 169ووٹ لے کر تیسرے ،پیپلزپارٹی کے اسد گلزا رخان 12ہزار343 ووٹ لے کر چوتھے ، آزاد امیدوار شفیق امینی 6875 ووٹ لے کر پانچویں اور جماعت اسلامی چھٹے نمبر پر رہی جبکہ مسلم لیگ (ن) نے پی ٹی آئی پر دھاندلی کا الزام عاید کردیا اور کہاکہ پی ٹی آئی نے 20ہزار سے زیادہ جعلی ووٹ ڈالے ۔انہوں نے کہا کہ ثبوت موجود ہیں کہ الیکشن کمیشن کے عملے کی ڈیوٹیاں صوبائی حکومت کی ایما پر تبدیل کی گئیں ۔ جمعرات کو غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق حلقہ این اے 4کے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارارباب عامر ایوب نے واضح برتر ی کے ساتھ کامیابی حاصل کی ۔ مسلم لیگ (ن) کے ناصر خان موسیٰ زئی خاطر خواہ ووٹ نہ لے سکے ۔ اس کے علاوہ اے این پی کے امیدوار خوشدل خان،پیپلزپارٹی کے امیدوار اسد گلزار خان مقابلے میں تھا تاہم وہ کامیاب نہ ہوپائے ۔ حتمی نتائج کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا ۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے حلقہ 4 میں ضمنی انتخاب پولنگ کا عمل صبح 8بجے سے شروع ہوا اور بغیروقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہا۔ دیہی علاقوں میں شہری علاقوں کی نسبت پولنگ سٹیشن پر ووٹرز کی تعداد زیادہ نظر آئی ، خواتین ووٹرز کی بھی بڑی تعداد پولنگ سٹیشنز پہنچی ہے،پی ٹی آئی کے ایم پی اے فضل الٰہی نے اپنے علاقے میں ووٹ پول کیا، ان کاکہنا تھا کہ ن لیگ کی ہرسازش کو ناکام بنا کر فتح کا تاج اپنے سر سجائیں گے۔کل 269پولنگ اسٹیشنوں میں سے 252کے نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار عامر ایوب 42ہزار 963 ووٹ لے کر پہلے (ن) لیگ کے ناصر خان موسیٰ 23ہزار 412ووٹ لیکر دوسرے ، اے این پی کے خوشدل خان 23ہزار 169ووٹ لے کر تیسرے ،پیپلزپارٹی کے اسد گلزا رخان 12ہزار343 ووٹ لے کر چوتھے ،آزاد امیدوار شفیق امینی 6875 ووٹ لے کر پانچویں اور جماعت اسلامی چھٹے نمبر پر رہی۔ جماعت اسلامی کے واصل فاروق 5041 ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر ہیں۔ آزاد امیدوار الحاج لیاقت علی نے 2418 ووٹ لے کر ساتویں نمبر پررہے۔ دوسری جانب ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پشاور میں پہلی بار 35 پولنگ سٹیشنز پر الیکٹرانک ووٹنگ کا تجربہ کیا گیا۔ جس کے باعث نتائج فوری آ ئے جب کہ پریذاڈنگ افسروں کو اینڈرائیڈر موبائل دیے گئے ہیں، موبائل ایپ کے ذریعے عملے کے پاس نتیجہ فوری پہنچ جاتا ہے۔حلقے میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا ۔ضمنی انتخاب کے لیے حلقے میں 3 لاکھ 98 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز کے لیے 269 پولنگ اسٹیشنزقائم کیے گئے جب کہ نتائج کے لئے پہلی بار الیکٹرانک مشین کا استعمال کیا گیا۔ پولنگ کے دوران امیدواروں اور ووٹرز کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی کی گئی، لوگ کھلے عام ہتھیار لے کر پولنگ اسٹیشن میں پھرتے رہے۔ این اے چار کا ضمنی انتخاب ایک معصوم جان لے گیا۔ پولیس کے مطابق، ارمڑ پایاں کے علاقے میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں حیات اللہ نامی بچہ جاں بحق ہو گیا ہےجب کہ ووٹرز کی جانب سے موبائل فون کا بھی بھر پور استعمال کیا گیا لیکن پولنگ اسٹیشنز پر موجود عملے نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرز کو پولنگ سٹیشنز تک لانے کے جتن بھی خوب کئے گئے۔خواتین بھی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پہنچیں معذور افراد بھی دور دور سے ووٹ ڈالنے پہنچے۔ ایک چچا، بھتیجا دبئی سے ووٹ ڈالنے بڈھ بیر کے علاقے نثار کلے کے پولنگ سٹیشن پر پہنچ گئے۔ پولنگ کے موقع پر زبردست سکیورٹی انتظامات کئے گئے۔فوج کے جوان بھی پولنگ سٹیشنز پر تعینات کئے گئے تھے۔ آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے مختلف پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلقے کے مختلف علاقوں سے 10مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، یونین کونسل 56 زنگلی کے عوام نے این اے فور کے ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کر دیا، کہتے ہیں بجلی ہے نہ پانی، گیس بھی نہیں آتی، سیاستدانوں کی صرف آنیاں جانیاں ہیں۔ ضمنی الیکشن کے موقع پر دن بھرسیاسی پارٹیوں کے کارکن آمنے سامنے آتے رہے۔ گلشن رحمان کالونی میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔پیپلز پارٹی کی ایم پی اے نگہت اورکزئی نے کلاشنکوف سمیت پولنگ سٹیشن پر دبنگ انٹری دے ڈالی۔ مختلف پولنگ سٹیشنز پر ن اور جنون کے مابین گرما گرمی بھی ہوئی، چمکنی پولنگ سٹیشن میں دونوں جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے اور خوب نعرے بازی کی، بعض پولنگ سٹیشنز پر ن لیگ اور اے این پی کے کارکنوں میں بھی تلخ کلامی ہوئی،یونین کونسل 56 زنگلی کے عوام نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جن کا کہنا تھا کہ انہیں گیس بجلی سمیت کوئی سہولت میسر نہیں، وہ کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ضمنی الیکشن کے دوران متنی کے علاقے سے 2 مشکوک افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ حلقہ این اے 4میں کل 837 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حلقے میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ، 7 ہزار پولیس اہلکار جبکہ پاک فوج کے 1700 اہلکارتعینات کئے گئے ۔ پہلی بار 35 پولنگ سٹیشنزکے 100 بوتھوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں نصب کی گئی ہے۔ ارباب عامر ایوب پی ٹی �آئی کے امیدوار، ناصر خان موسیٰ زئی ن لیگ، اسد گلزار پیپلز پارٹی اور خوش دل خان اے این پی کی جانب سے امیدوار تھے ۔جے یو آ ئی ف کے امیدوار خالد وقار چمکانی لیگی امیدوار کی حمایت میں دستبردار ہو گئے تھے ۔ 2013 کے عام انتخاب میں تحریک انصاف کے گلزار خان 55 ہزار 134 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے تھے جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر خان نے 20 ہزار 412 ووٹ ، جماعت اسلامی کے امیدوار نے 16493،اے این پی کے امیدوار نے 15795،جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار نے 12519،پیپلزپارٹی کے امیدوار 12031ووٹ حاصل کئے جبکہ یہ نشست پی ٹی آئی کے رہنما گلزار خان کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی،حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 52 ہزار 445 ہے،مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 7 ہزار 943 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 44 ہزار 502 ہے۔ادھرمسلم لیگ (ن)خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 4پشاور کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ثبوتوں کیساتھ الیکشن کمیشن جائیں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 20ہزار سے زیادہ جعلی ووٹ ڈالے ۔انہوں نے کہا کہ ثبوت موجود ہیں کہ الیکشن کمیشن کے عملے کی ڈیوٹیاں صوبائی حکومت کی ایما پر تبدیل کی گئیں ۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کا تھا ۔ پی ٹی آئی کہاں سے آگئی۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ (ن) لیگ نے اپنا ووٹ بینک برقرار رکھا ہوا ہے تاہم پی ٹی آئی نے ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی ۔

Facebook Comments