Uncategorizedتازہ ترین

محکمہ ایگریکلچر ایکسٹنشن لویر چترال کے تحت زمینداروں کا میگاواٹ کا میگا اجتماع ٹاؤن ہال میں منعقد

چترال (نمائندہ آوازچترال) محکمہ ایگریکلچر ایکسٹنشن کے تحت زمینداروں کا میگاواٹ کا میگا اجتماع ٹاؤن ہال میں منعقد ہوا جس میں لویر چترال ڈسٹرکٹ کے تمام دیہات سے زمینداروں کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر لویر چترال انورالحق کی صدارت میں منعقد ہ اس

پروگرام میں سابق کنٹرولر ملٹری اکاونٹس غلام انبیاء مہمان خصوصی تھے جبکہ محکمہ زراعت کے لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر انورالحق نے کہاکہ چترال میں زراعت کے ساتھ عوام کی وابستگی مثالی ہے جو صوبہ خیبر پختونخوا کے May be an image of 2 people and people standingدوسرے کسی ضلع میں نہیں ہے اور اس کلچر کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے جس سے بے روزگاری پر قابو پانے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال کی مکمل میپنگ کا عمل جاری ہے جس سے یہاں دستیاب ایک ایک انچ زرعی زمین کے معلومات فراہم ہوگا اور یہ ایگریکلچر سیکٹر میں پلاننگ میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ذمہ داری زراعت کے تمام محکمہ جات پر عائد ہوتی ہے اور اپنے کام میں سستی اور کاہلی کا مظاہر ہ کرنے والا کوئی افسر اس ضلع میں مزید تعینات نہیں رہے گا۔ انور الحق نے کہاکہ زرعی زمینات کو ہاؤسنگ اسکیموں کے لئے استعمال کرنے کی رجحان کی مکمل حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس موقع پر پیش کیا جانے والا قرارداد کا جواب دیتے May be an image of 4 people and people standing

ہوئے کہاکہ چترال میں سبزیوں اور پھلوں کے لئے پراسسنگ پلانٹ کی اشد ضرورت ہے جس کے لئے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کو خوش آئند قراردیا کہ چترال میں سول سوسائٹی کو زراعت سے بہت ہی ذیادہ دلچسپی ہے جوکہ اس کے مستقبل کو تابناک بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اعلان کیاکہ زراعت سے متعلق جملہ مسائل کے بارے میں ایک کھلی کچہری منعقد کی جائے گی جس میں زراعت کے تمام محکمہ جات کے افسران حاضرہوں گے۔ مہمان خصوصی غلام انبیاء نے اپنے خطاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زراعت کی اہمیت بیان کی اور چترال کے مخصوص جعرافیائی حالات کے مطابق پودوں، سبزیوں اور میوہ جات کی نشونما اور بہتر پیدواری گنجائش کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر روشنی ڈالتے ہوئے محکمہ زراعت کے ماہرین پر زور دیا کہ وہ ان مسائل کو جدید سائنس کی

مدد سے حل کرے۔ محکمہ زراعت کے شعبہ توسیع کے سبجیکٹ میٹر اسپیشلسٹ رفیق احمد نے زراعت کے شعبہ توسیع کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلات پیش کیا اور کہاکہ زمینداروں کے ساتھ براہ راست رابطہ کاری اس محکمے کا کام ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت اور حساسیت ذیادہ ہے اور زراعت کی ترقی کے لئے حکمت عملی بنانا اور جدید علم اور ٹیکنالوجی زمینداروں تک پہنچانا بھی اس کی ڈیوٹی میں شامل ہے جبکہ زمینداروں تک علم اورمعلومات پہنچانے کیلئے نمائشی پلاٹ، فیلڈ ڈے، لٹریچر، ریڈیو، سوشل میڈیا، زرعی فیسٹول اور میگا اجتماع کا سہارا لیتاہے۔ ماڈل فارم سروسز سنٹر کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے ایگریکلچر افیسر شہزاد ایوب نے کہاکہ زراعت کے تمام شعبہ جات اور زمینداروں کے درمیان یہ تنظیم پل کا کردار ادا کرتی ہے جسے 2014ء میں صوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے ضلع، ڈویژن اورصوبائی لیول پر قائم کیا گیا ہے جبکہ مقامی سطح پر یہ باقاعدہ جمہوری طریقے سے زمینداروں کے ووٹوں سے قائم ہوتی ہے۔ انہوں نے زمینداروں پر زور دیاکہ وہ اس تنظیم کے چھتری تلے جمع ہوکر اپنے مسائل حل کروائیں جوکہ ان کیلئے سب سے ذیادہ مفید پلیٹ فارم ہے۔ ماڈل فارم سروسز سنٹر لویر چترال کے صدر فرید احمد، نائب صدر شریف حسین اور جنرل سیکرٹری امیر اللہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ فرید احمد نے کسانوں کے مسائل کے بارے میں قرار داد پیش کی اور کسانوں کو سستے داموں کیمیائی کھاد کی فراہمی کے سلسلے میں 5کروڑ روپے کی انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ شریف حسین نے زراعت کے مختلف شعبہ کے افسران کی ماڈل فارم سروسز سنٹر کے بارے میں عدم دلچسپی اور اسے نظر انداز کرنے پر تشویش کا اظہارکیا۔ ا س موقع پر محکمہ سائل اینڈ واٹر کنزرویشن کے ڈسٹرکٹ افیسرامین  نے محکمہ کے بارے میں بتایاکہ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے چھوٹے پیمانے پر تالاب بنانا، زمین کو کٹاؤ سے بچانا اور کمیونٹی کی غیر آباد زقطعہ اراضی کو ابپاشی کے لئے پانی فراہم کرکے اس کی آباد کاری اس کے افعال میں شامل ہیں۔ محکمہ لائیو اسٹاک کے لویر چترال کے ڈسٹرکٹ ڈائرکٹر سلیم خان اور اپر کے ڈاکٹر شیخ احمد نے بھی لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی بیان کی۔ معروف سماجی شخصیت عنایت اللہ اسیر نے اس موقع پر زراعت سے متعلق نظم پیش کی اور چترال میں قدیم طرز زراعت پر روشنی ڈالی۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button