Uncategorizedتازہ ترینمضامین

شمع رسالت کے پروانے (16)… تحریر۔۔۔۔ شہزادہ مبشرالملک

# صدیق اکبرؓ۔
حضور اقدس ؐ ۔۔۔ پر ایمان لانے والوں میں حضرت خدیجہ ؐ کے بعدجس ہستی کو گلشن اسلام میں داخل ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہ ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔
حضرت صدیق اکبر کا شمار حضور کے بچپن کے دوستوں میں ہوتا ہے جو ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔اکھٹے پلے بڑے اور ایک ساتھ کاروباری سفر کیے۔ایک دوسرے کے گھروں میں اتے جاتے رہے۔۔حضور سے چند ہی سال چھوٹے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی ابوبکر کا شمار قریش کے محبوب اور اولعزم سرداروں میں ہوتا تھا۔مجرمین پر۔۔۔ دیت ۔۔۔ یا خون بہا مقرر کرنا اپ کی ذمہ داری تھی۔لوگ ابوبکر کے علاوہ کسی دوسرے کے فیصلے کو قبول نہیں کرتے تھے۔ ابوبکر ۔۔۔علم انساب۔۔۔ اور ۔۔۔خوابوں ۔۔۔ کی تعبیر کے ماہر مانے جاتے تھے اس کے علاوہ اپ ایک متعمول تاجر،اچھے اخلاق کے مالک، اچھے ہمنشین ۔ مجلس اور دسترخوان کشادہ رکھنے والے انسان تھے۔
حضور صل علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جس کے اگے اسلام پیش کیا اسکے دل میں کچھ تردد،کچھ تاخیر کچھ تفکر ضرور پیدا ہوا سواءے ابوبکر کے جب اس کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر کسی تاخیر کے ۔۔۔کلمہ حق۔۔۔ قبول کی۔ مکہ میں ہر ازمایش کے وقت اپ نے حضور کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ اپنی دولت جو قبول اسلام کے وقت چالیس ہزار درھم تھےوہ بھی مسلمانوں کی بھلاءی پر خرچ کر دیے۔اپ کے شان میں قران کے کءی ایات نازل ہوے۔ایک مرتبہ حضور کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن معیط نے چادر سے حضور کا گلہ دبادیا ۔حضرت ابوبکر نے اس حملے سے اپ کو نجات دی اور بااواز بلند کہا ۔۔۔ اےقوم کیا تم ایک ایسی ہستی کو مٹانا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میں اللہ کا بیجھا ہوا رسول ہوں۔اپ نے ابتدای مراحل میں ہی کءی غلاموں کو خرید کر ازاد کیے جو کفار کے ہاتھوں ظلم و ستم کا روز نشانہ بنتے تھے ان میں حضرت بلال۔۔ حضرت عامر بن فہیرہ جیسے لوگ بھی شامل تھے۔
# زید بن حارثہ ؓ۔
یہ حضور اقدس کے سب سے پسندیدہ غلام تھے جو حضرت خدیجہ نے اپ کو ہبیہ کیا تھا۔یہ اٹھ سال کی عمر میں قیدی بن کے مکہ اءے تھے جب ان کی والد کو پتہ چلا کہ ان کا بیٹا حضور کے پاس ہیں تو فدیہ دے کر بیٹے کو ازاد کرنے حاضر خدمت ہوے اور مدعا بیان کی حضور نے فدیہ لینے کی بجاءے ایک اور راے دی کہ میں زید کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ اپنے والد کے ساتھ جانا چاہیے یا میرے ساتھ رہنا پسند کرے اسے اختیار حاصل ہے۔۔۔ زید ۔۔۔ نے والدین کی بجاءے حضور کے قدموں میں رہنے کو اعزاز جانا۔والد نے اسے برا بلا کہا کہ تم ازادی اور والدین کے مقابلے میں غلامی کو تریجع دے رہے ہو۔اس موقع پر خوش ہوکے حضور نے اعلان کیا کہ اج سے زید میرے منہ بولے بیٹے ہیں۔اور میرے وارث ہیں۔تب ان کے والد اور بھاءی خوش ہوکے واپس لوٹے۔
Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button