149

دادبیداد…..شجر کاری کا نیا منصو بہ… .ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ شجر کاری کے ذریعے نہ صرف ما حول کا تحفظ کیا جار ہا ہے بلکہ نیا منصو بہ ایسا ہے جس کی مدد سے لو گوں کی آمد نی میں بھی اضا فہ ہو گا اور صو بے میں کارو بار کے نئے موا قع بھی پیدا ہو نگے پا کستان میں سعو دی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد الما لکی سے گفتگو کر تے ہوئے انہوں نے صو بے میں زیتون اور شہد بیری کی شجر کاری کے لئے سعودی حکومت کی سر ما یہ کاری کا خیر مقدم کیا اور اس عزم کو دہرا یا ہے کہ برادر ملک کے سرما یے کو عوام کی بہتری اور غر بت کے خا تمے کی غر ض سے مفید اور قا بل عمل منصو بوں میں لگا یا جا ئے گا ملا قات میں ما حو لیات کے لئے وزیر اعظم کے معا ون خصو صی ملک امین اسلم بھی مو جو د تھے یہ بات قابل ذکر ہے کہ زیتون اور شہد بیری کی شجر کاری کا منصو بہ حکومت کے سو ارب درختوں کے بڑے منصو بے کا حصہ ہے صو بہ خیبر پختونخوا کو زیتون اور شہد بیری کے پو دوں کے لئے بے حد منا سب اور مو زوں قرار دیا گیا ہے زیتون کی خصو صیت یہ ہے کہ اس کا پو دا کم جگہ گھیر تا ہے فی ایکڑ کے حساب سے بہت زیادہ پیدا وار دیتا ہے اور صرف 3سالوں میں پیدا وار دینے کے قابل ہو جا تا ہے اس طرح شہد بیری بھی کم لا گت اور مختصر مدت میں زیادہ پیدا وار دینے والا پو دا ہے ملا کنڈ ڈویژن میں زیتون کی شجر کاری کا نہایت کا میاب تجربہ کیا گیا ہے تیمر گرہ کے قریب زیتون کے جو باغات لگائے گئے ہیں وہ زر عی اور جنگلا تی ما ہرین کی کا میاب حکمت عملی کے ساتھ ساتھ کسا نوں اور زمینداروں کی خصو صی دلچسپی کا نمونہ ہیں عالمی سطح کے ما ہرین نے اس تجربے کو سرا ہا ہوا ہے شجر کاری کے تین اہم پہلو ہیں اس کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ وطن کو سر سبز رکھنے میں پو دوں اور درختوں سے مدد ملتی ہے دوسرا فائدہ یہ ہے کہ شجر کاری کی مدد سے ما حولیاتی آلو دگی پر قا بو پا یا جا سکتا ہے سیلا بوں کی روک تھا م کی جا سکتی ہے اس کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ درختوں کے ذریعے لو گوں کی امدنی میں اضا فہ کیا جا تا ہے خصو صاً پھلدار درختوں کی یہ خصو صیت ہے کہ ان کا پھل کئی سالوں تک جاری رہتا ہے بلکہ ان کی پیداواری صلا حیت میں سال بہ سال اضا فہ بھی ہو تا ہے ایک عرب بزرگ کا قصہ مشہور ہے قصہ یوں ہے کہ بوڑ ھا شخص جھکی ہوئی کمر کے ساتھ پو دے لگا نے میں مشغول تھا کسی نے اُن سے پو چھا با با جی کتنی عمر ہے آپ کی؟ بوڑھے شخص نے کہا 92سال، پو چھنے والے نے کہا یہ پودا کتنے سا لوں میں پھل دے گا اُس نے کہا اخروٹ اور چار مغز کا پو دا 6سالوں میں پھل دیتا ہے اُس شخص نے پو چھا کیا تمہیں یقین ہے کہ تم 6سال اور زندہ رہو گے؟ بوڑھے شخص نے غور سے اُس کی طرف دیکھا پھر کہا بیٹے ہم سے پہلے بوڑھوں نے جو پو دے لگا ئے تھے ان کا پھل ہم نے کھا یا اب ہم جو پودے لگارہے ہیں ان کا پھل آنے والی نسلیں کھا ئینگی جدید دور کے ما ہرین کہتے ہیں کہ آجکل ایسے پو دے بکثرت آرہے ہیں جو تین سے چار سا ل کے درمیان پھل دیتے ہیں زیتون کا پودا بھی ایسا ہی ہے شہد بیری کے بارے میں مشہور ہے کہ جو مکھیاں بیری سے رس حا صل کر تی ہیں ان کا شہد دیگر مکھیوں کے مقا بلے میں مقدار اور معیار کے حساب سے بازار میں زیا دہ پسند کیا جا تا ہے سعو دی عرب بھی ابھا، طائف اور دوسرے علا قوں میں زراعت، با غبا نی پر تو جہ دے رہا ہے معیشت کو تیل اور سیا حت کے ساتھ ساتھ زراعت، باغبا نی اور صنعت و حر فت پر بھی برابر استوار کر نے پر کا ر بند ہے اس وجہ سے پا کستان میں بھی باغبا نی، مگس با نی اور دیگر شعبوں میں سر ما یہ کاری اُس کی تر جیحا ت میں جگہ پا چکی ہے وزیر اعلیٰ محمود خا ن کے ساتھ ملا قات میں سعو دی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد الما لکی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب غر بت کے خا تمے کی جدو جہد میں پا کستان کی حکومت کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون جار ی رکھے گا اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں شجر کاری کے ذریعے آمد ن بڑھا ؤ، غر بت مٹاؤ مہم کے ذریعے عوام کی زندگی میں خوشگوار انقلاب لا نے کا تہیہ کر رکھا ہے زیتون اور شہد بیری کی شجر کاری اس مہم کا حصہ ہے۔

Facebook Comments