49

ایون کے مقام پر چترال پریس کلب کے زیر اہتمام”پریس فورم“

چترال ( آوازچترال) چترال کے جنوب میں کالاش ویلیز کے گیٹ وے پر واقع خوب صورت گاؤں ایون کے باشندوں نے ایون روڈ کی مخدوش حالت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہی کچا راستہ ہے جسے انگریزوں نے 1895ء میں خچروں پر باربرداری کے لئے بنایا تھا جس میں ایک انچ کی بھی توسیع نہیں ہوئی جبکہ بمبوریت روڈ کو ایون کے ایک مختصر حصے سے گزارنے سے ایون گاؤں کا 80فیصداس صدی عیسوی میں سڑک کی سہولت سے محروم رہے گا۔ ایون کے مقام پر چترال پریس کلب کے زیر اہتمام”پریس فورم“سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کے معززین اور سماجی کارکن جندولہ خان، خیرالاعظم، محکم الدین، جناح لال، عتیق الرحمن، اکرام اللہ جان، فضل مولیٰ، امتیاز علی، حسین، احمد، حاجی بہادر خان، عرفان علی، اظہار احمد، مولانا محمد نظام اور دوسروں نے کہاکہ اپنی قدرتی رعنائی اور زرخیز زمین کے لئے مشہور یہ گاؤں مسائل کا شکار ہے جن میں سڑک کا مسئلہ سرفہرست ہے جہاں اس دور میں بھی دو گاڑیاں آسانی ایک دوسرے کو آسانی سے کراس نہیں کرسکتے اور جہاں اس دورمیں بھی ٹرک اور زرعی مشینری نہیں پہنچ سکتے۔انہوں نے کہاکہ کالاش وادیوں کے لئے این ایچ اے کے ذریعے معیاری سڑک بنانے کی منظوری سے ان کے دلوں میں امید پیدا ہوگئی تھی مگر اسے سید آباد کے مقام پر پل سے گزارکر لے جانے سے ایون کا صرف 20فیصد علاقہ اس سے مستفید ہوگا۔ معززین نے کہاکہ ایون گاؤں سے گزرنے والی موجودہ سڑک کو24فٹ تک توسیع دے کر اگر بلیک ٹاپ کیا جائے تو انہیں سید آباد پل پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایون کے آر سی سی پل کی تکمیل میں چار سالوں کی غیر معمولی تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ چوبی پل سے ٹرک نہیں گزرسکتی اور اس کی حالت بھی ناگفتہ بہہ ہے جوکسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیاکہ چترال آنے والے سوفیصد حکومتی وزیر، مشیر اور افسران اس ایون گاؤں سے گزرکر ہی کالاش وادیوں کا رخ کرتے ہیں لیکن انہیں ایون کی اس پل اور سڑک کو دیکھ کر شرم نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھاکہ 1920ء کے عشرے میں برطانوی حکومت نے کلکتہ سے سریا اور سیمنٹ درگئی تک ریل، اپر دیر تک لاری اور لواری پاس سے خچروں پر لاد کر یہاں پہنچاکر ایون کے نالے کے اوپر لوہے اور سیمنٹ کا پل بنایا تھاجوکہ 1978ء میں بی اینڈ آر ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی کی وجہ سے سیلاب بردہوگئی لیکن حکومت پاکستان نے گزشتہ 72سالوں کے دوران سڑک کی چوڑائی میں ایک انچ کا بھی اضافہ نہیں کیا۔ انہوں نے گزشتہ چھ دہائی سالوں سے جاری غوچھار کوہ ایریگیشن چینل کی تکمیل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ 8کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود ابھی تک یہ نامکمل ہے جس کی تکمیل سے 27ہزار چکورم بنجر زمین زیر کاشت آئے گا۔ا نہوں نے اٹانی ایریگیشن چینل کی توسیع کا بھی مطالبہ کیا جوکہ 1975ء میں پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تھا۔ علاقے کے لئے پینے کے پانی کے لئے جاری واٹر سکیم میں غیر معیاری کام اور ٹھیکہ دار کے خلاف نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے معززین نے ایون کے ارکھاڑ اورکورو کے لئے واٹر سپلائی اسکیم مکمل کرنے کا مطالبہ کیا جوکہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود پینے کے پانی سے محروم ہیں اور ندی کا گدلا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے جنگلات کو بچانے کے لئے ایون کے قریب بروز گاؤں میں گزشتہ حکومت کا منظور شدہ گیس پلانٹ کی تنصیب کا بھی مطالبہ کیا اور فارسٹ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کی کٹائی کردہ ٹمبر کو سید آباد کے قریب دریا کے کنارے پڑے خراب ہونے سے بچانے کا بھی مطالبہ کیا۔ معززین ایون نے ایون کے لئے ریسکیو1122اسٹیشن کی منظوری، فائربریگیڈ گاڑیوں اور ٹی ایم اے کی طرف سے صفائی کا عملہ مقرر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ایون گاؤں میں ٹریفک کی بڑھتی حجم کے مد نظر ٹریفک پولیس کے جوانوں کی تعداد کو دو سے ذیادہ کرکے چھ کرنے، دروش سے ایون ٹرانسپورٹ کے کرایوں کومناسب طور پر مقرر کرنے، موڑدہ گاؤں میں ڈرینج کا نظام بہتر بنانے اور ایون کے وٹرنری ڈسپنسری میں گائے کی نسل کشی کے لئے بیل کی دوبارہ فراہمی اور اس کے لئے پہلے سے موجود ملازم بل اٹنڈنٹ کو چترال سے ایون واپس ٹرانسفر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اہالیان ایون نے علاقے میں سیلاب کے ملبے کی صفائی اور دوسرے کاموں کے لئے ACTEDکا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے علاقے کے لئے قابل تعریف تحفہ قرار دیا۔

Facebook Comments