تازہ ترینمضامین

داد بیداد..ابلیس پر فرد جرم..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

حجاج کرام ہر سال جمرات کے تین مقامات پر شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں اس طرح ابراہیم علیہ السلا م کی سنت کوباربار دہرایا جاتا ہے 9ذی الحجہ کی شام کو عرفات سے مزدلفہ پہنچنے کے بعد پہلاکام یہ ہوتاہے کہ 49کنکریاں چن کرتھیلے میں ڈالے جائیں،اگلے تین دنوں میں یہ کنکریاں شیطان پرتواتر کے ساتھ برسائی جا ئینگی حضرت ابراہیم علیہ السلا م جب اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ پا ک کے حکم پر قربان کرنے کے لئے قربان گاہ کی طرف لے جارہے تھے تو ابلیس نے پہلے ان کی بی بی کو ورغلا کر قربانی رکوانے کی کوشش کی اس میں ناکام ہواتو حضرت ابراہیم علیہ السلا م کوورغلانے کی کوشش کی، اس میں بھی ناکامی ہوئی تو حضرت اسماعیل علیہ السلا م کو ورغلانے پر اپنا زور آزمایا اور بری طرح ناکام ہوا باپ نے اللہ پاک کی رضا کے لئے بیٹے کو پیشانی کے بل گرایا اور اس کے گلے پر چھری پھیردی اس لمحے جنت سے دنبہ لاکر چُھری کے نیچے لٹایاگیا دنبہ ذبح ہوا، اسماعیل علیہ السلام کو ذبح عظیم کی بشارت دی گئی، جمرات کے تین مقامات اس دن کی علامتیں ہیں، کنکریاں بھی علامتی طور پر ماری جاتی ہیں، علامت یہ ہے کہ ابلیس کی 6خصلتوں سے برات اور توبہ کا اظہار کرنا مقصود ہے ابلیس اللہ پاک کے دربار سے جن خصلتوں کی وجہ سے راندہ کر کے دھتکارا گیا ابد لا باد تک لعنت کا مستحق ٹھہرا وہ خصلتیں کسی کو بھی راندہ درگاہ کر دیتی ہیں، وہ خصلتیں یہ ہیں،اپنی برتری جتانا،جھوٹ بولنا، جھوٹی قسم کھانا، اپنی عقل پربھروسہ کرنا، حسد کرنا اور انتقام لینا، قرآن مجید فرقان حمید میں ان خصلتوں کا تفصیلی ذکر آیا ہے، ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلا م کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس کی وجہ اور دلیل یہ تھی کہ اس کو مٹی سے پیداکیا گیا مجھے آگ سے پیدا کیا گیا تھا آگ مٹی سے افضل ہے اس لئے میرا مقام اونچا ہے میں آدم سے برتر ہوں لغت میں احساس برتری کو غرور اور تکبر کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، ابلیس نے غروراور تکبر کی وجہ سے اللہ پاک کے حکم سے سرتابی کا جرم کیا، یہ پہلا فرد جرم تھا جو اس پر عائد ہوا اس فرد جرم کی وجہ یہ تھی کہ اس نے اپنے عقل سے کام لیکر خالق اورمالک کی حکم عدولی کی اس نےعقل لڑاکر دیکھا تو آگ مٹی سے برتر نظر آئی گویا عقل کی رہنمائی کافی نہیں محض عقل کی انگلی پکڑ کر کوئی اپنی منزل کو نہیں پاسکتا عقل کو جس نے پیداکیا اس کاحکم عقل سے برتر ہے بےخطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق،عقل ہے محو تماشالب بام ابھی، تیسراجرم یہ تھا کہ ابلیس نے آدم اور اس کی ذات، آل، اولاد سے انتقام لینے کا اعلان کیا، اس پر یہ فرد جرم بھی عائد ہوا کہ وہ انتقام لینے کا مادہ رکھتاہے اور انتقام لینا خالق کے شایان شان ہے مخلوق کو کسی بھی طرح زیبانہیں اس جذبہ انتقام کے ساتھ ابلیس کی جو الگ خصوصیت نظرآتی ہے وہ حسد ہے ابلیس نے سوچاکہ آدم کو اللہ پاک نے اپنا خلیفہ بنا کر کائنات کی طاقتوں اور کائنات کے خزانوں کواس کے لئے مسخر کردیا اب یہ کائنات میں راج کرے گا، میں ہرگز ایسا نہیں ہونے دونگا حسد بری خصلت بھی اس کے فرد جرم میں شامل ہے اسی حسد کی وجہ سے اس نے آدم علیہ السلا م اور بی بی حوا کو ورغلانے کے لئے جال بُننا شروع کیا، اس جال میں دونوں کو پھنسانے کے لئے اس نے جھوٹ بولا، کہ ممنوعہ درخت کا پھل کھانے سے تم فرشتے بنوگے اور ہمیشہ جنت میں رہوگے جب باوا آدم اور اماں حوا نے اس کی بات ماننے میں تامل کیا تو اس نے جھوٹی قسم کھائی چنانچہ جھوٹ بولنا اور جھوٹی قسم کھانا اس کے فرد جرم میں شامل ہوئے مسلمان جب جمرات پر شیطان کو کنکریاں مارتا ہے تو اپنے نفس کی 6خصلتوں کو ماررہا ہوتاہے تکبر اور غرور کو مارتا ہے عقلیت کے شعور کو مارتا ہے، حسد اور انتقام کے جذبے کو مارتا ہے جھوٹ اور جھوٹی قسم کو کنکریاں مارکر ان شیطانی خصلتوں سے توبہ کرتا ہے گویا نفس امارہ کو مارتا ہے استاد ذوق کا شعر ہے ؎

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button