تازہ ترینمضامین

اتالیق سرافراز شاہ چترآل کی تاریخی شخصیت .. سابق ایم پی اے سید سردار حسین

اتالیق سرافراز شاہ چترآل کی تاریخی شخصیت تھے ان کا تعلق رشتے خاندان سے تھا ان کا قبیلہ ایران کے تاریخی شھر رشت سے نقل مکانی کرکے چین کے صوبہ سنکیانگ کے شھر یارکند آئے یارکند سے چترال آئے اس مناسبت سے ان کو رشتے کہا جاتا ہے شہر رشت ایران کے صوبہ گیلان کا دارلخلافہ رھا ھے یہ شہر صوبہ گیلان کے دریائے حذر کے کنارے واقع ھے اور بندر گاہ انزالی اسی شہر میں واقع ہونے کی وجہ سے یوروپ اور روس کا گیٹ وے کہا جاتا ہے رشت کے مغنی بونداباندی کے ہیں اس شہر کو شہر باران بھی کہتے ہیں سنہ 60 ہجری کے بعد عرب اور بعداد سے سادات ھجرت کرکے اسی شہر گیلان آئے وہاں سے برصغیر وسطی ایشیا پامیری ریاستوں میں پہنچتے اور اپنے ناموں کے ساتھ گیلانی لکھنے لگے ایران میں اس علاقے کے لوگ اپنے ناموں کے ساتھ رشتی لگاتے ہیں جیسے ایران کے مشہور عالم دین سید کاظم قاسم رشتی اور مشہور ادیب ابراہیم داؤد رشتی کہنے کا مطلب یہ ھے رشتے علاقےکی مناسبت سے کہے جاتے ہیں ورنہ گیلان و رشت کے باسی مہاجر سادات ہیں اتالیق سرافراز شاہ کا خاندان موڑکھو کے گہت سہت وریجون کے علاقوں میں آباد ہوے اور شاہ خیراللہ کے زمانے میں اس خاندان پر قیامت گذری خاندان کے سا رے افراد کو شاہ خیر اللہ نے قتل کیے صرف ایک نرینہ فرد بچ گیا کیونکہ اس خاندان نے خیر اللہ کے خلاف کٹور ثانی کی حمایت کی تھی جب کٹور کی حکومت پورے ریاست چترال پر قایم ہوئی تو رشتے خاندان مہتران چترال کے دربار مین سب سے معزز اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز ہو گئے شاہی خاندان کے بعد سب سے زیادہ طاقتور یہی خاندان رہا 1919 کے جنگ بریکوٹ میں افعان فوج کے خلاف آسی خاندان کے گل حسین نے وطن کی دفاع میں جان دی اور اتالیق سرفراز شاہ نے بہادری کے جوہر دکھائے تو سلطنت برطانیہ نے آپ کو (MBE) Member of most excellent order of the British empire)کا خطاب اور ماڈل سے نوازا آپ شاہی فوج کے بریگیڈیئر کے عہدے پر پہنچے اتالیق سرافراز شاہ لوٹکوہ کے حکیم بھی رھے اتالیق کا عہدہ جو کہ مہتر کے بعد ریاست کا سب بڑا عہدہ تھا ہمیشہ اس خانداں کے پاس رہا آپ پولو کے نامور کھلاڑی رہے آپ کا گھر چترال کے ہر خاص عام کیلئے کھلا تھا عریب لوگ چترال کے طول عرض سے اپنے گدھے گھوڑوں سمیت اسی گھر میں ٹہرتے تھے آپ کی جائیداد موڑکھو لوٹکوہ اور چترال خاص میں حد سے زیادہ تھیں آپ کا بیٹا اتالیق جعفر علی شاہ اسلامیہ کالج سے فارع ھوکر مہتر کے سکریٹری بنے بعد میں معربی پاکستان کے قانون ساز اسمبلی کے ممبر بنے 70 کے عشرے میں سوات کوہستان سے لیکر چترال کے قومی اسمبلی کے ممبر بنے آپ انتہائی قابل وسیع مطالعہ کرنے والے انساں تھے دنیا کے گزرگاہوں کے مطالعے کے بعد وہ اس نتجے پر پہنچے کہ چترال کے لیے سرنگ کے ذریعے ہی راستہ ممکن ھے اور قومی اسمبلی میں پہلی دفعہ لواری ٹنل کا مطالبہ اٹھایا آور اپنے تقریر میں دنیا کے مختلف ٹنلز کا ذکر کیا اور ہمیشہ لواری ٹنل کا مطالبہ کر نے سے اسمبلی میں آپ کو ٹنل ممبر کے نام سے یاد کیا جانے لگا آپ کے مسلسل مطالبے پر آخر کار شہید ذوالفقار علی بھٹو نے لواری ٹنل منظور کی اور کام شروع کیا آپ نے چترال کیلیے گندم ڈیزل پٹرول مٹی تیل کی سبسیڈی منظور کروانے آپ پاکستان کے آئین 1973 کی منظوری میں حصہ لیا اس خاندان نے چترال کیلیے ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی اتالیقی بازار سینکڑوں دوکانو پر مشتمل قائم کرکے نہ صرف تجارت کو فروغ دیے بلکہ سینکڑوں افراد کو روزگار فراہم کیے چترال میں مونٹیں ان ھوٹل کا قیام عمل میں لاکر سیاحت کو فروع دیے اس ھوٹل کے قیام کے بعد دنیا کے کئی نامور سیاحتی کمپنیاں چترال کا رخ کیے حیدر علی شاہ چترال میں سیاحت کے بانی مبانی ہیں ھفت روذہ ھیدوکش کا اجراء کرکے صحافت کو فروع دیےاسی خاندان کے فرزند فرداد علی شاہ چترال کے پہلے فائٹر پایلیٹ بنے عرضِ اس قوم کے افراد جس پیشے سے منسلک ھوے نام کمائے بے سپرینٹنڈنٹ پولیس شریف احمد مرحوم بجگی میکی چترال کے نامور ادیب تاریخ دان مکرم شاہ کے علاؤہ کئی اور نامور افراد اسی خاندان نے چترال کو دئے

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button