تازہ ترینمضامین

این ایچ اے کے ہاتھوں اپر چترال کے ھیڈ کوارٹر بونی کو شدید نقصان کا خدشہ..سید سردار حسین

این ایچ اے کے ہاتھوں اپر چترال کے ھیڈ کوارٹر بونی کو شدید نقصان کا خدشہ) اپر چترال کا ھیڈ کوارٹر بونی چترال کا ایک تاریخی گاؤں رہا ہے 1952 میں پہلی دفعہ یہاں موجودہ ہائی سکول کا قیام عمل میں لایا گیا اس کے لیے پہلی درخواست مرحوم افضل امان نے دی ان کے اپنے بچے بمبئ میں کسی سکول میں زیر تعلیم تھے حکومت نے صرف 100روپے گرانٹ اس شرط پر دی کہ بلڈنگ کی تعمیر اور اساتزہ کا انتظام بونی کے عوام خود کریں گے مرحوم افضل امان نے اپنے بچے افضل علی اور بھتیجے سردار علی سردار امان کو تعلیم ادھورا چھڑوا کر بمبئی سے واپس بلایا اور اسی سکول میں استاذ مقرر کروایا اور بونی کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت سکول کے عمارت تعمیر کی دوکاندھ کے باشندوں نے اپنی زمینیں دی کورارع سے میراگرام تک بچے اپنے گھروں سے سکول آتے تھے باقی دوردراز کے طلبا کیلئے شکھرے قوم کے ایک معزز شخصیت شمس الدین نے بورڈنگ ھاؤس بنایا اپر چترال کے زیادہ تر افراد جو اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ھوگئیے اسی ادارے کے تعلیم یافتہ تھے اس طرح پہلی سرکاری ڈسپنسری ی یہاں قائم ھوئ اور اب ڈسٹرکٹ ھسپتال بنی تعلیم اور صحت کے میدان میں ھی نھیں ذراعت جنگلات باعات کے نرسریز کیلئے بونی کے لوگوں نے زمینات وقف کئے اور پورے چترال کے جنگلات و باعات میں بونی کا بڑا حصہ ھے اپر چترال کی سب سے بڑی مسجد بونی میں ھے اور کمیونٹی کے بڑے ادارے بونی میں ھیں پورے اپر چترال کے لوگ یہاں کاروبار کرتے ہیں پورے اپر چترال سے لوگ یہاں پر آباد ھیں NHA والے بونی کے سامنے پہاڑ کو نیچے گراکے بڑے بڑے پہاڑ ی تودے دریا مستوج میں ڈالکر دریا کا رُخ بونی کی طرف کئے ھیں جس سے آدھا بونی تباھ ھونے کا اندیشہ ھے ھم روڈ مانگتے ھیں روڈ ھماری ضرورت ھے لیکن 1000میٹر کے پہاڑی ملبے کو دریا میں ڈال کے پورے ضلعی ھیڈ کوارٹر کو تباہ کرنے عوام اور ملک دشمنی کے زمرے میں آتا ھے جو قابل قبول نہیں اس ملبے کو بہ آسانی دوسری جگھ منتقل کیا جا سکتا ہے اس کا پہلا سروے بونی کے اندر سے جا کر آوی میں پل کے ذریعے دوما دومی پہنچا نا تھا باقاعدہ چیف انجینئر بونی ائے ظفر اللہ صاحب دیگر معتبرات آوی تک ٹیم کے ساتھ گئے اس صورت میں محفوظ راستہ بنتا ٹھون کے پہاڑ اور بونی پل کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ بائی پاس ھوتے اور ھزاروں لوگون کو روزگار کے مواقع ملتے اب ایک نا اھل ٹھیکیدار کو یہ ملا ھے وہ کئ سو کلوگرام بارود ایک جگھ ڈالکر پورے پہاڑ کو نیچے گرتا ھے اور دریا کو ڈیم کی شکل دے کر کروائے جنالی کی طرف کیا ھے ابھی لوگ اس مسلئے کا اندازہ نہیں لگاتے جب دریا کے ساتھ زمین کی سلائیڈنگ شروع ہوتی ہے تو چند مہینوں میں گاؤں کے گاؤں ختم ھو جاتے ہیں یہ صورت حال ھم نے ریشن میں دیکھے ھیں دریا کلو میٹر دور تھا دو مہینے میں سارا گاؤں ختم ھوا ہم نے اس سلسلے میں درخواست صدر وزیراعظم چیرمین NHA کو دیئے ھیں اب تمام عوامی نمائندے ویلیج کونسل سے لیکر قومی اسمبلی تک اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ سے درخواست ھے کہ اپر چترال میں صرف بونی محفوظ تھا ریشن مستوج بریپ تمام بڑے گاؤن خراب ہوگئے تمام اپر چترال کے عوام سے گذارش ہے کہ بونی کوبچانے کیلئے کردار ادا کرے

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button