تازہ ترینمضامین

داد بیداد ۔. امداد با ہمی ۔. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

جن قوموں نے ترقی کی ہے ان قو موں کی ایک مشترک خو بی یہ ہے کہ وہ حقوق نہیں ما نگتے ذمہ داریاں نبھا تے ہیں جب ہر شہری اپنی ذمہ دار ی نبھا تا ہے تو دوسرے شہری کا حق ادا ہوتا ہے حقوق کا جھگڑا ہی ختم ہو جا تا ہے اسلا می تعلیمات میں ذمہ داری کو فریضہ کہا گیا ہے ہر مسلمان کو اپنا فریضہ ادا کر نے کا حکم دیا گیا ہے، ہمارے سما جی نظام میں بھی امداد با ہمی یا اپنی مددآپ کے نا م سے اپنا فریضہ ادا کرنے کا با قاعدہ دستور مو جو د ہے مگر ہم نے اس دستور کو بھلا دیا ہے اس وجہ سے ہمارے نفسیات میں یہ بات راسخ ہو گئی ہے کہ میرے حصے کا کا م کوئی اور کرے گا ہم اجتما عی زند گی میں یہ سمجھتے ہیں کہ جب سب لو گ اپنا کام کر رہے ہیں تو میرے کام نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑ ے گا اگر محلے میں 100شہریوں کے گھر ہیں اور ان میں سے ہر ایک یہ خیال کر ے کہ میرے حصے کا کام میرا ہمسا یہ کرے گا تو نتیجہ یہ ہو گا کہ کوئی بھی اپنے حصہ کا کام نہیں کرے گا قدیم زما نے میں ایک باد شاہ اپنی رعا یا کے اس رویے سے تنگ ہوا تو ان کو سمجھا نے کے لئے دودھ کا تا لاب بنا نے کا اعلان کیا،

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button