تازہ ترینشعروشاعری

انداز کی شاعری – ( اقرارالدین خسرو)

چترال کے مشہور شاعر جناب سید صدام علی انداز کا نعتیہ مجموعہ عقیدتو گمبوری کا تیسرا ایڈیشن شائع ہوچکا ہے ۔یہ چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی شاعر کی کتاب کے تین ایڈیشنز شائع ہوے۔ سید صدام علی انداز کے آباواجداد بنیادی طور پر تورکہو سے ہجرت کرکے دروش میں آباد ہوے تھے۔ صدام علی انداز نے میٹرک اور ایف اے تک دروش سے تعلیم حاصل کی بعدازاں ایس بی بی یو سے پرائیویٹ بی اے اور حالیہ دنوں میں ہی اردو ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ صدام علی انداز کے دو اور کتاب

” ہردیو اشرو ” اور ” شکست آرزو ” بھی اسی طرح کامیاب ہوچکے تھے ۔ ان کے بھی دو دو ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔ صدام علی انداز کی شاعری سادہ اور عام فہم ہے جسکی وجہ سے چترال اور گلگت کے دوردراز علاقوں تک اسے پسند کی جاتی ہے ۔ اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ صدام علی انداز یہ سارہ کچھ اپنے ذاتی اخراجات سے کرتے آرہے ہیں۔ ابھی تک اسے کسی سرکاری یا نیم سرکاری یا کسی ادبی تنظیم کی سرپرستی حاصل نہیں رہی ہے۔ اور صدام علی انداز کی ایک اور کتاب ” زندگیو راز ” کے نام سے بھی زیرِ طبع ہے ۔ ہم اپنی طرف سے صدام علی انداز کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ساتھ ہی سرکاری و نیم سرکاری تنظیمات اور وہ ادارے جو زبان و ادب کے نام پہ کروڑوں روپے بٹور رہے ہیں ان سے بھی یہی گزارش کرتے ہیں کہ صدام علی انداز جیسے نوجوانوں کی رہنمائی کریں تاکہ وہ زبان و ادب کی اور بھی زیادہ خدمت کریں ۔ اور مرزا رفیع سودا کا یہ شعر مستعار لے کے ان تنظیموں سے یہی گزارش کرتے ہیں کہ
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ براندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی ۔۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button