تازہ ترینمضامین

دھڑکنوں کی زبان …الیکشن کے بعد۔۔۔ الیکشن کی گہما گہمی ہے ۔۔محمد جاوید حیات

۔سرگرمیاں ،مصروفیات ،دوڑدھوپ اور کوششیں زوروں پر ہیں ۔۔پورا ملک ہل رہا ہے ۔اجتماعات ، کارنر میٹنگز ، ریلیاں اور دورے ہیں ۔۔گھر گھر پیغامات پہنچاٸی جارہی ہیں ۔نماٸیندہ آگے آگے ہے کارکن پیچھے پیچھے ہیں ۔خوش آمد ہو رہی ہیں ۔تسلیاں دی جارہی ہیں ۔جھوٹ بولے جارہے ہیں آسمان کے قلابے ملاۓ جارہے ہیں ۔عوام ہیں کہ تماشا کررہے ہیں ان کو سچ جھوٹ کا پتہ ہے ان کو پس منظر اور پیش منظر کا پتہ ہے ۔ان کو کارکردگی اور خدمات کا پتہ ہے اور ان کو نماٸندوں کے اس رویۓ کا بھی پتہ ہے جو جیت جانے کے بعد ان سے روا رکھا جاتا ہے ۔۔۔ان کو اندازہ ہے کہ کسی پارٹی کا بھی کوٸی واضح اور قابل عمل منشور نہیں ۔۔ان کو یاد ہے کہ بجلی کا بل دیکھا کر پھاڑنے والے کے دور میں بجلی کی ایک یونٹ میں چھ گنا اضافہ ہوا۔ ان کو یاد ہے کہ مہنگاٸی مارچ والوں نے مہنگاٸی سے عوام کے ہوش اڑا دیے ۔ان کو پتہ ہے کہ ملازمین کو سبز باغ دیکھانے والوں نے ان کی پیٹھ پہ چھرا گھونپا ۔ان کو یاد ہے کہ اسلامی نظام کا نعرہ بلند کرنے والے سود کے خلاف جدوجہد میں بے بس ہوگئے ۔۔ان کو یقین ہے کہ ان کے نماٸندے منتخب ہوکر منظر سے غاٸب ہو جاٸیں گے وہ اپنی پراپرٹی، کمیشن اور بینک بیلنس کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی جدو جہد میں ہونگے ۔۔اس کے باوجود بھی یہ ہلاگلا ہے ۔انتخابات کا دن آۓ گا لوگ ووٹ دینے جاٸیں گے ایک دوسرے کی مخالفت ہوگی نفرتیں بڑھیں گی ۔دوستیاں ختم ہو جاٸیں گی اچھے خاصے لوگ آپس میں مشت بہ گریبان ہو جاٸیں گے۔ایک جنگ کا سماں ہوگا ۔شام آۓگی چھاۓ گی ۔ووٹوں کی گنتی ہوگی ایک جیتے گا باقی ہاریں گے ۔جیتنے والے کے چمچے گن گن کے اس کو بتاٸیں گے کہ فلاں نے تمہیں ووٹ نہیں دیا اس کے انتقام کی آگ کو مزید بھڑکاٸیں گے ۔ہارنے والوں کے چمچوں کی ایسی کو تیسی ۔۔خود کچھ نہیں کہہ سکٸیں گے ۔۔۔ان کی گالیاں خاموشی سے سنتے جاٸیں گے ۔دوچار دن یہ منظر رہے گا ۔۔پھر ممبراں مرکز کی طرف روانہ ہونگے حکومت بنانے کے لیے لابنگ شروع ہونگی ۔حکومت بنے گی ۔۔یہ ممبراں کوٸی اور مخلوق ہونگے ۔۔علاقہ بھول جاٸیں گے باشندے بھول جاٸیں گے پسماندگی بھول جاٸیں گے وعدے وعید بھول جاٸیں گے ۔۔۔ان کے وارے نیارے ۔۔۔مہنگے ہوٹلوں میں کھانے ۔پررونق تقاریب میں مہماناں خصوصی ۔۔پھولوں کے ہار تعریفیں ۔۔۔دن گزرتے جاٸیں گے ۔۔۔ادھر وہ دوڑ دھوپ ماضی بن جاۓ گی ۔۔۔وہ نفرتیں جو ہم نے آپس میں پھیلاٸی تھیں ان کی آگ میں ہم جلتے رہیں گے ۔یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا ہے اگر ہم اس منظر نامے پر سنجیدگی سے غور کریں ۔۔تو ہمارا انتخاب بھی درست ہوگا اور ہمارا معیار برقرار رہےگا ۔۔ورنہ یہ ڈھونگ ، یہ کھیل تماشا ہوتا رہے گا۔ تقدیر بدلنے کے نعرے بلند ہوتے رہیں گے مگر انتخابات سے پہلے اور بعد کے منظر نامے ایک جیسے ہی رہیں گے

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button