تازہ ترین

اپر چترال اور کوہ ایریا کیلئے بجلی کے نئے ٹیرف جو کہ لوئیر چترال کے مطابق ہوگا لیٹر پر دستخط کر دیے ۔..افتخارالدین

چترال(آوازچترال رپورٹ)سابق ایم۔این۔اے شہزادہ افتخار الدین کی کوششوں کے نتیجے میں نیپرا کے پانچ ممبران پر مشتمل کمیٹی نے اپر چترال اور کوہ ایریا کیلئے بجلی کے نئے ٹیرف جو کہ لوئیر چترال کے مطابق ہوگا لیٹر پر دستخط کر دیے ۔ کمیٹی ان ممبران پر مشتمل ہے۔1

. چیرمین نیپر

2۔ جنرل مینیجر نیپرا
3. ممبر ٹیکنیکل
4. ممبر لیگل
5. ممبر ٹیرف
29 جنوری 2023 کو وفاقی اور خیبرپختونخواہ حکومت کے درمیان معاہدے کے بعد سے اب تک اپر چترال اور کوہ میں 24 گھنٹے بلا ناغہ بجلی کی سپلائی جاری ہے تاہم معاہدے کے مطابق اپر چترال اور کوہ ایریا کو لوئیر چترال اور دروش کے برابر بجلی کی قیمت لگانے کی بجائے بہت زیادہ قیمت پر بجلی کے بل وصول کیے جارہے ہیں جو کہ گورنر ہاؤس پشاور میں معاہدے کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں سابقہ ایم۔این۔اے شہزادہ افتخار الدین نے دوبارہ وزیراعظم صاحب سے رجوع کیا اور وزیراعظم ہاؤس سے 26 جولائی کو جاری شدہ حکمنامہ (ڈائریکٹیو) کی کاپی حاصل کی جس میں نیپرا کو وزیراعظم نے مذکورہ ریٹ منظور کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ اسی سلسلے میں سابق ایم۔این۔اے نے چیرمین نیپرا کے ساتھ چیف سیکرٹری سے بھی ملاقات کی تاکہ اس مسئلے کے حل کیلئے IGFC کی مدد حاصل کریں۔
اب کمیٹی کے تمام پانچ متعلقہ ممبران کے دستخط ہونے کے بعد نیپرا نے مذکورہ کیس کی سماعت کیلئے 5 اکتوبر 2023 کی تاریخ مقرر کی ہے جس میں نیپرا اور پیسکو کے ساتھ پیڈو کے متعلقہ افسران بھی شرکت کرینگے۔ ایک دفعہ نیپرا سے منظوری ہونے کے بعد اپر اور لوئیر چترال کو یکساں قیمت پر بجلی مہیا کی جائے گی جوکہ پورے چترال والوں کی معاشی اقتصادی ترقی میں معاون ہوگی۔
اس کے علاوہ سابق اہم۔این۔اے صاحب نے اپر چترال کیلیے کاغلشٹ کے مقام پر علیحدہ 132 کے۔وی۔اے گرڈ اسٹیشن اور ٹرانسمشن لائن کیلئے فنڈ مختص کرنے لیے وزیراعظم کی ہدایت نامے کی کاپی بھی حاصل کی ہے۔
یاد رہے کہ سابق ایم۔این۔اے شہزادہ افتخار الدین کے دور میں سابق وزیراعظم نواز شریف صاحب نے بجلی کے 3 منصوبے وفاقی بجٹ میں شامل کیے تھے۔ ان منصوبوں میں چترال واپڈا پاور ہاؤس کو ایک میگاواٹ سے پانچ میگاواٹ میں اپگریڈ کرنا شامل ہے جو کہ فرانسیسی ڈونر AFD کی فنڈنگ سے ہونا ہے جس کی لاگت 2.19 بلین روپے ہے جس پر اکتوبر 2022 سے کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ دو مزید بجلی کے منصوبے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کاغلشٹ ، مستوج، گرم چشمہ اور ماربل سٹی انڈسٹریل اسٹیٹ گنگ میں 132 KVA گرڈ اسٹیشن اور ٹرانسمشن لائن کے منصوبے شامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی PSDP کے اندر وفاقی بجٹ میں شامل کیے گئے منصوبوں کے تحت پیسکو نے بروز، گہیرت، کیسو اور تار کے علاقوں میں کام مکمل کیا ہے اور رواں سال مزید علاقوں میں بجلی سپلائی کی جائے گی جن میں ایون، مدکلشٹ، عثریت، ارسون، جنجریت اور ارندو شامل ہیں۔
26 جون 2023 کو سابق ایم۔این۔اے شہزادہ افتخار الدین وزیراعظم کا ہدایت نامہ (PM Directive) حاصل کیا جس کے مطابق اپر چترال کاغلشٹ میں 132 کے وی۔اے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے ورلڈ بنک فنڈز سے رقم مختص کرنے کےلئے ہدایات جاری کی گئی ہیں جس کی تخمینہ لاگت 3 ارب پچاس کروڑ روپے ہے ۔ یہ منصوبہ پہلے سے ہی 2016 کے وفاقی بجٹ میں شامل ہے جو سابقہ ایم۔این۔اے کے دور میں شامل کیا گیا تھا۔
سابق ایم۔این۔اے نے اپنے دور حکومت میں بہت سارے بڑے منصوبے جن میں این ایچ۔اے روڈز، موبائل ٹاورز ،انٹرنیٹ کے لئے فائبر آپٹکس لائن، 2015 کے زلزلہ زدگان اور سیلاب زدگان کے لئے فنڈز مختص کروائے وہاں 2013 سے 2018 تک وزیراعظم پاکستان کا 5 مرتبہ چترال کا دورہ بھی کرایا۔ میاں نواز شریف نے 22 جولائی 2015 سیلاب, 28 اکتوبر 2018 زلزلہ, 7 ستمبر جلسہ اور 17 جولائی 2017 کو لواری ٹنل افتتاح کیلئے (4 مرتبہ) چترال کا دورہ کیا اور 3 مارچ 2018 کو سابق وزیراعظم شاہد حاقان عباسی نے دورہ کیا اور گولین گول پاور ہاؤس کا افتتاح کیا۔
یاد رہے کہ علاقے کی ترقی کیلئے بنیادی ڈھانچہ بنانا ایک مشکل اور وقت طلب کام ہے اور مسلسل کوشش اور پیروی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کوئی دو منٹ کی دوڑ نہیں، اس کیلئے مسلسل کوشش کی ضرورت ہے ۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button