تازہ ترین

عالمی معیشت کے لیے 2023سخت ترین سال ثابت ہوسکتا ہے

واشنگٹن(آوازچترال ) بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم یف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ زیادہ تر عالمی معیشتوں کے لیے 2023 ایک مشکل سال ہو گا کیوں کہ عالمی شرح نمو کے اہم انجنوں، امریکہ، یورپ اور چین کو کمزور اقتصادی سرگرمیوں کا سامنا رہا ہے. آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نیا سال ابھی ختم ہونے والے سال سے زیادہ مشکل ہونے والا ہے کیوں کہ ترقی کے تینوں بڑے مراکز بیک وقت اقتصادی سست روی کو شکار ہیں.گزشتہ سال اکتوبر میں آئی ایم ایف نے 2023 کی عالمی اقتصادی نمو کی پیش گوئی میں کمی کا اعلان کیا تھا عالمی ادارے کا اقتصادی منظر نامہ اس دباﺅ کو ظاہر کرتا ہے جو یوکرین میں جنگ ، افراط زر اور امریکی فیڈرل ریزرو جیسے مرکزی بینکوں کی طرف سے شرح سود میں مہنگائی کو قابو کرنے کی غرض سے کیے گئے اضافے کے باعث اقتصادی نمو پر اثر انداز ہو رہا ہے آئی ایم ایف کی پیش گوئی میں کمی کےبعد سے چین نے ”زیرو کووڈ“ پالیسی کو ختم کر دیا ہے اور اپنی معیشت کو بے ترتیب انداز سے دوبارہ کھولنے کا آغاز کر دیا ہے لیکن چین کے صارفین کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث محتاط نظر آتے ہیں.آئی ایم ایف کی سربراہ جارجیوا نے انٹرویو میں کہا کہ 40 برسوں میں ایسا پہلی بار ہونے کا امکان ہے کہ سال 2022 میں چین کی ترقی عالمی نمو کے برابر یا اس سے کم ہوگی. انہوں نے کہا کہ چین میں آنے والے مہینوں میں کرونا وائرس کی متوقع ”بش فائر“ یعنی تیزی سے پھیلنے کی صورت میں اس سال اس کی معیشت کو مزید متاثر کر سکتی ہے اور علاقائی اور عالمی ترقی دونوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے چین میں تھیں لیکن وہ ایک ایسے شہر میں تھیں جہاں کرونا کا کوئی کیس نہیں تھا لیکن ایک بار جب لوگ سفر کرنا شروع کردیں گے تو یہ صورت نہیں رہے گی.جارجیوا نے کہا کہ اگلے دو مہینے چین کے لیے مشکل ہوں گے، چینی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جب کہ خطے عالمی ترقی پر بھی منفی اثرات ہوں گے اکتوبر کی پیش گوئی میں عالمی مالیاتی ادارے نے گزشتہ سال چین کی مجموعی پیداوار کی شرح نمو 3.2 فی صد رکھی تھی جو کہ 2022 کے لیے فنڈ کے عالمی ”آﺅٹ لک“ کے مطابق ہے اس وقت ادارے نے کہا تھا کہ 2023 میں چین میں سالانہ نمو 4.4 فی صد تک ہوگی جب کہ عالمی سرگرمیاں مزید سست ہو ں گی.امریکی معیشت کے بارے میں جارجیوا نے کہا کہ یہ دوسری معیشتوں کے مقابلے میں مختلف ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ معاشی دباﺅ سے بچ جائے جس سے دنیا کی ایک تہائی معیشتوں کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ (کی معیشت) سب سے زیادہ لچک دار ہے اور یہ کساد بازاری سے بچ سکتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کی لیبر مارکیٹ کافی مضبوط ہے تاہم امریکی معیشت کی یہ حقیقت اپنے طور پر ایک خطرہ بھی پیش کرتی ہے.امریکہ میں گزشتہ برس مہنگائی کی شرح گزشتہ چار دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جسے واپس اپنے ہدف کی سطح پر لانے کے لیے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی کوششوں میں رکاوٹ پڑ سکتی ہے اگرچہ افراط زر نے 2022 کے اختتام پر اپنے عروج سے واپسی کے کچھ آثار دکھائے، پھر بھی فیڈرل ریزرو کے ترجیحی اقدام کے مطابق افراطِ زر اپنے دو فی صد کے ہدف سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے.جارجیوا کے الفاظ میںیہ ایک ملی جلی نعمت ہے کیوں کہ اگر لیبر مارکیٹ بہت مضبوط ہے تو فیڈرل ریزرو کو افراطِ زر کو کم کرنے کے لیے شرح سود کو مزید سخت رکھنا پڑ سکتا ہے یاد رہے کہ فیڈرل ریزرو نے پچھلے سال 1980 کی دہائی کے بعد سے سخت ترین پالیسیاں اپنا تے ہوئے مارچ میں اپنے ”بینچ مارک پالیسی ریٹ“ کو صفر کے قریب سے اٹھا کر 4.25 فی صد اور پھر 4.50 تک بڑھا دیا تھا فیڈرل ریزرو کے حکام نے پچھلے مہینے اندازہ لگایا تھا کہ 2023 میں شرح سود پانچ سے بڑھ جائے گی جو 2007 کے بعد سے اب تک نہیں دیکھی گئی.وائس آف امریکا کے مطابق فیڈرل ریزرو کے لیے امریکی جاب مارکیٹ توجہ کا مرکز ہو گی کیوں کہ حکام چاہیں گے کہ قیمتوں کے دباﺅ کو کم کرنے میں مدد کے طور پر مزدوروں کی مانگ میں کمی آئے . نئے سال کے پہلے ہفتے میں امریکہ میں روزگار کے محاذ پر کلیدی اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے ان میں ماہانہ” نان فارم پے رولز“ کی رپورٹ بھی شامل ہوگی جو متوقع طور پر ظاہر کرے گی کہ امریکی معیشت نے دسمبر میں مزید دو لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے اور بے روزگاری کی شرح 1960 کے بعد سے 3.7 فی صد کی کم ترین سطح پر رہی.
Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button