تازہ ترین

لوئر چترال سول سوسائٹی لیڈرز گروپ کا سیلاب سے متاثرہ یارخون ویلی کا دورہ ۔ د

بانگ یارخون ( محکم الدین ) لوئر چترال سول سوسائٹی لیڈرز گروپ نے پانچ روزہ دورے کے آخری روز حالیہ سیلاب سے شدید متاثرہ علاقہ یارخون کا

دورہ کیا ۔ اس علاقے میں مستوج پرکوسب سے لے کر اپر یارخون دربند تک حالیہ سیلاب سے 202 گھرانے مکمل طور پر ملیامیٹ ہوئے ، جبکہ 831 گھرانوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے ۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بریپ کونسل ہے ۔ جہاں 52 گھرانے مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں ۔ اور یہ لوگ اب خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ مکانات کے

نقصانات کے علاوہ حیوانات ، زمینات ، باغات اور فصلوں کی تباہی کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ جن کی اسسٹمنٹ جاری ہیں ۔ مستوج سے اوپر یارخون کی طرف شاید ہی کوئی گاوں ایسا ہے ۔ جہاں سیلاب نے بربادی نہ کی ہو ۔ سڑکیں بڑے بڑےپتھروں کے ڈھیر

اور خندقوں میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔ نہروں اور پائپ لائنوں کا نام نشان نہیں ہے ۔ اور گندم کی فصل کھیتوں میں ہی سڑے ہوئے بھوسے میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔ اور لوگوں کےچہروں پر مایوسی وخوف کے سایے نمایاں ہیں ۔ حکومتی امدادی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مگر اچھی بات یہ ہے۔ کہ اے کے

ڈی این کے ادارے اور دوسرے رفاعی غیر سرکاری ادارے دن رات متاثرین کی خدمت اور ان کی بحالی کیلئے کوشان ہیں ۔ خصوصا آغاخان ایجنسی فار ہبیٹاٹ ( آکاہ) متاثرین کے ساتھ کھڑا ہے ۔

لوئر چترال لیڈرز گروپ فریدہ سلطانہ کی قیادت اور حسین ولی کی رہنمائی میں گروپ بانگ یارخون کی طرف روانہ ہوای۔ تو راستے میں سیلاب متاثرین کی مشکلات اور نقصانات کا اندازہ ہوا ۔ چوئنج ، بریپ میں لوگ اب متاثرہ مکانات کی باقیات جمع کرنے اور از سر نو زندگی کا آغاز کرنے کیلئے مصروف

دیکھےگئے ۔ گروپ نے بریپ کے نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد جب مہتنگ پہنچا تو ٹیم رہنما حسین ولی نے مہتنگ لینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے بارے میں بتایا کہ1986 میں اےکے آر ایس پی نے اس بنجر زمیں کو آباد کرنے کیلئے نہر کشی کی ۔اس وقت یہ اپنی نوعیت کا اہم پراجیکٹ تھا ۔ ایک سال کے عرصے میں نہر کی تعمیر مکمل ہوئی ۔ تو ہز ہائنس پرنس کریم آغاخان نے خود اس کا افتتاح کیا ۔ اس

Pپراجیکٹ سے80 گھرانے فی گھرانہ چارجریب زمین کےمالک ہوگئے ۔ موجودہ وقت میں ہر گھرانہ اپنی اس زمین سے ایندھن اور حیوانات کیلئے چارے کی ضرویات پوری کرتا ہے ۔ اور کئی لوگ باغات لگا کر آمدنی حاصل کرتے ہیں ۔ گروپ نے بعد آزان بانگ یارخون میں جدید منی ہائیڈل پاورسٹیشن کا دورہ کیا ۔ یہ بجلی گھر جدید ترین ٹیکنالوجی کے تحت تعمیر کیا گیا ہے ۔ اور وسیع ایریے کو بجلی کی

سہولت مہیا کرتا ہے ۔ اور کارڈ سسٹم پر بجلی سپلائی ہوتی ہے ۔ بجلی گھر کے ایڈمن آفسر ممتاز علی خان نے گروپ کو خوش آمدید کہا ۔ یہ 800 کلوواٹ کا بجلی گھر ہےجو 1450 گھرانوں کو بجلی مہیا کرتا ہے ۔ بجلی گھر یادگار یوٹیلٹی کمپنی لمیٹڈ اور اے کے آر ایس پی کے اشتراک سے چلتا ہے ۔ اور دونوں اس کے شئیر ہولڈر ہیں ۔ گھرانہ بل کم سے کم 20 اور زیادہ سے زیادہ1500 روپے ہے ۔ اس وجہ سے اضافی بجلی کا مصرف نہ ہونے پر بجلی گھر مالی

مشکلات کا شکار ہے ۔ بارہ ملازمین کام کرتے ہیں ۔ اور تنخواہ انتہائی قلیل ہے ۔ گروپ کو یہ اندازہ ہوا ۔ کہ بجلی گھر کے سٹیک ہولڈرز کےمابین کچھ مسائل پر اختلافات موجود ہیں ۔ اس سےتمام سٹیک ہولڈرز کو ناقانل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اس لئے بجلی گھر کی بقا کیلئے انا کا مسئلہ ختم کرکے اس کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرنے کی فوری ضرورت ہے ۔ بجلی گھر میں مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں بھی انتہائی قلیل ہیں ۔ اس لئے وقت کے تقاضوں کے مطابق ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جانا چاہئیے ۔ نیز بجلی گھر کیلئے تربیت یافتہ انجینئر کی بھی ضرورت ہے ۔ لوئر چترال لیڈرز گروپ نے بعد آزان آغا خان لوکل کونسل بانگ کا دورہ کیا ۔ جس میں پریذیڈنٹ لوکل کونسل محمد ولی خان ، انریری سیکرٹری عبد الناصر ، چیرمین لوکل طریقہ بورڈ ، پیار علی آغاخان اکنامک ٹائم بورڈ اور بہار علی آفس سیکرٹری نے گروپ کا استقبال کیا ۔ اور اپنے خطاب میں انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کی ثقافت ہمیں باہمی محبت اور احترام کا سبق دیتا ہے ۔ ہم ایک ہی لوگ ہیں ۔ چاہے اپر میں یا لوئر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اے کے آر ایس پی کے تمام ریجنل پروگرام منیجرز نے اس علاقےکا بہت خیال رکھا ۔ ان کی کوششوں سے بہت سے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں ۔ اور ہم استفادہ کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر اے کے ڈی این کے تقریبا بارہ ذیلی اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کئے گئے ۔ گروپ لیڈر فریدہ سلطانہ فری نے شاندار استقبال ومہمان نوازی پر پریذیڈنٹ لوکل کونسل اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا ۔ کہ اپر چترال کے لوگوں میں بے پناہ محبت اور اخلاص موجودہے ۔ اور یہ سب سے اچھی بات ہے ۔ کہ بچیوں کی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ تاکہ صنفی امتیاز نہ ہو ۔ اس موقع پر اپر چترال میں خود کشی کے واقعات پر ھی گفتگو ہوئی ۔ اور اس امر کا اظہار کیاگیا ۔ کہ اس کے تدارک کیلئے بچیوں اور بچوں میں کئیریر کونسلنگ اور لائف سکل کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ گروپ اپنا پانچ روزہ دورہ اپر چترال مکمل کرنے کے بعد پیر کے روز چترال لوئر کی طرف واپس روانہ ہوگا ۔ گروپ نے اس موقع آغاخان رورل سپورٹ پروگرام چترال کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ ان کے تعاون سے اپر چترال کے مختلف منصوبے دیکھنے اور لوگوں سے ملنے و تجربات حاصل کرنے کا موقع ملا ۔ انہوں نے خصوصی طور پر ریجنل پروگرام آفیسر چترال اخترعلی اور ایریامنیجر فرید احمد سول سوسائیٹی آفیسر عطاء اللہ ، شگفتہ ، شائستہ اور ٹیم رہنما حسین ولی کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ ان کے بھر پور تعاون سے یہ دورہ ممکن ہوا

 

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button