تازہ ترین

حج نامہ 2022: معاملہ روحانی جذبات کا ہے….ہارون رشید

خانۂ کعبہ کو پہلی بار دیکھ کر یا روضۂ رسول کے دروازے پر پہنچ کر آپ کے دل پر کیا کیفیت گزرتی ہے، اس کے بارے میں گھر بیٹھے لوگ حاجیوں سے جاننے کے جتنے مشتاق ہوتے ہیں حاجی کے لیے انہیں لفظوں میں بیان کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔

یہ سفرنامہ کوئی عام روداد نہیں۔ یہ جنگ سے تباہ حال وزیرستان یا افغانستان نہیں، یہ حجاز مقدس ہے، امن کا گہوارہ، مذہبی یگانگت کی اعلیٰ مثال اور اپنے خالق کے سامنے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پیش ہونے کا نادر موقع۔ لہٰذا مخمصہ یہ ہے کہ اس سفر کو ہم بیان کریں تو کیسے کریں؟ حج کے سفرنامے یا حج نامے کی روایت تو ہزار سال سے اوپر جاتی ہے اور اس میں ابنِ جبیر، ابنِ بطوطہ، رچرڈ برٹن اور اردو میں نواب سکندر بیگم سے لے کر مولانا عبدالماجد دریابادی، مولانا مودودی، ممتاز مفتی اور مستنصر حسین تارڑ جیسے نام شامل ہیں جنہوں نے حج کے سفر کی ردوداد اپنے اپنے انداز میں بیان کی۔ ابتدائی زمانے میں حج کا سفر ایک بڑی مہم جوئی سے کم نہیں ہوتا تھا، اور یہ سفر ایسا ہوتا تھا کہ واپسی کے امکانات بھی کم ہو جاتے تھے۔ اس لیے لکھنے کا مقصد رہنمائی ہوا کرتی تھی۔ اردو کے ابتدائی حج ناموں میں تو ریل کا کرایہ، جہاز کا ٹکٹ، جہاز کے کھانوں کی قیمت اور مکہ میں اخراجات کی ایک ایک پائی کی تفصیل ہوا کرتی تھی۔ اب زمانہ بدل گیا ہے، ویڈیو اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اب لوگ کسی سفر کے بارے میں صرف پڑھنا ہی نہیں چاہتے بلکہ اسے دیکھنا بھی چاہتے تھے۔ اسی لیے ہم نے بھی سوچا کہ اسی میڈیم masjidharam2.jpg

کو اختیار کرتے ہوئے لوگوں کو حج اور مقاماتِ مقدسہ کے بارے میں اپنے تاثرات سے آگاہ کیا جائے۔ مسجد حرام میں جتنی بھی توسیع کی جائے جگے کم پڑ ہی جاتی ہے۔ مسجد کی توسیع کئی برسوں سے ایک مسلسل عمل ہے (انڈپینڈنٹ اردو/ہارون رشید) محدود مالی وسائل کی وجہ سے ماضی میں ہر کوئی سفر خصوصاً حج کی سعادت حاصل نہیں کر سکتا تھا لہٰذا یہی تحریریں پڑھ کر لوگ اپنی روحانی تسلی کر لیا کرتے تھے۔ حج کا سفر عام سفروں سے اس لیے مختلف ہے کہ یہ معاملہ روحانی جذبات کا ہے۔ خانۂ کعبہ کو پہلی بار دیکھ کر یا روضۂ رسول کے دروازے پر پہنچ کر آپ کے دل پر کیا کیفیت گزرتی ہے، اس کے بارے میں گھر بیٹھے لوگ حاجیوں سے جاننے کے جتنے مشتاق ہوتے ہیں۔ حاجی کے لیے انہیں لفظوں میں بیان کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ ایسے سفرنامے بڑے اعلیٰ پائے کی مذہبی اور ادبی شخصیات نے لکھے، ہم ایسا کیا کہیں گے جو پہلے کسی نے نہیں کہا ہو گا؟ پھر کیا ہم لکھنے میں اس محبت اور احترام کی حقیقی ترجمانی کر سکیں گے جو ہم محسوس کریں گے؟ اگر نہ کر پائے تو کیا گناہ یا سزا کا مستحق قرار پائیں گے؟ بس دل میں اسی وسوسے نے گھر کیا ہوا ہے۔ نماز عشا کے بعد مسجد الحرام کے لیے واپس لوٹتے ہوئے عازمین کا شمندر(انڈپینڈنٹ اردو/ہارون رشید) اکثر سفرناموں میں مناظر و موضوعات میں یکسانیت فطری ہے۔ جدہ، مکہ، مدینہ، خانۂ کعبہ، صفا و مروہ، منیٰ، میدان عرفہ، مزدلفہ، روضۂ نبوی، مسجد نبوی وغیرہ ایسے مقامات اور مناظر ہیں جن سے ہر حاجی کا سامنا ہوتا ہے۔ ہر مصنف اپنے سفرنامے میں ان چیزوں کو جگہ دیتا ہے لیکن اس کے باوجود ان سفرناموں میں جذبات نگاری اور منظر کشی میں تنوع بھی بھی پایا جاتا ہے۔ ہر سفرنامہ نگار کا اظہار تاثر مختلف ہوتا ہے۔ ہر ایک اپنی ذاتی کیفیات اور قلبی تاثرات کو دوسروں سے مختلف پیرائے میں پیش کرتا ہے۔ بس یہی سوچ کر اور اپنے شوق اور خواہش کی تکمیل کے لیے حج کی روداد کو تحریر کرنے کی کوشش کریں گے۔ کرونا وبا کے بعد انفرادی احتیاط کا کوئی زیادہ انتظام دکھائی نہیں دیا۔ سعودی حکام فیس ماسک تو دے رہے ہیں لیکن بہت کم افراد کو اسے پہنے ہوئے دیکھا۔ ہاں مسجد الحرام میں معمور عملے نے لازمی فیس ماسک پہنے ہوئے ہیں۔ پھر فرش و درو دیوار کی مسلسل صفائی کا انتظام بھی ہر وقت جاری رہتا ہے۔ شاید کرونا کی وجہ سے ہی خانہ کعبہ کی دیوار اور چادر سے لپٹنے کی ممانعت قرار دی گئی ہے۔ حجر الاسود کو چھونا اور چومنا بھی اب ممکن نہیں۔  حرم میں حاجیوں کا رش عصر کی نماز سے بننا شروع ہوتا ہے اور عشا کی نماز تک اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ ہر چھت لوگوں کے سمندر کا منظر دکھائی دیتی ہے۔ یہ حالت محض 10 لاکھ حجاج کی موجودگی کی صورت میں ہے، اندازہ کریں جب یہ تعداد 25 سے 30 لاکھ ہوگی تو کیا عالم ہوتا ہوگا۔  حرم کے اردگرد اللہ کے مہمانوں کی سہولت کے لیے جگہ جگہ بڑی ٹی وی سکرینوں پر ان کی رہنمائی کے لیے ہدایات پر مبنی ویڈیوز چل رہی ہیں۔ ایک میں ایک بوڑھے شخص کو طاقت نہ ہونے کی صورت میں طواف مکمل نہ کر سکنے کی الجھن میں دکھاتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ سکوٹر نما سواری پر اسے مکمل کرسکتے ہیں۔ پانی وافر مقدار میں مفت آب زم زم کے نلکوں کی صورت اور چھوٹی چھوٹی پلاسٹک کی بوتلوں میں دستیاب ہے۔ بوتل کا سائز تاہم اتنا چھوٹا ہوگیا ہے کہ آدھا لیٹر سے بھی بہت کم جس سے میرے خیال میں پلاسٹک کا استعمال بڑھا ہے جو شاید ماحول کے لیے اچھا نہیں۔ حرم میں داخل ہوتے وقت سکیورٹی حکام نے بھانپ لیا کہ یہ تو صحافی ہیں لہذا دستاویزات، اجازت نامے چیک کروائے تو بتایا گیا کہ آپ کو مکہ میں تو ویڈیو کی اجازت ہے حرم کے اندر نہیں۔ ان کی کھڑے کھڑے یہ تشریح کوئی زیادہ پسند نہیں آئی۔ خیر پسند تو پاکستانی حج مشن کا دورہ بھی نہیں آیا۔ آمد سے کئی روز قبل کسی سینیئر افسر سے پاکستانی حجاج سے متعلق بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں پہنچ کر بھی کوئی ذمہ دار دفتر میں نہیں ملا۔ سب بیک وقت دورے پر ہیں بتایا گیا۔ ایک اہلکار نے بیویوں کو لانے اور حج کرانے کی کوشش کی بھی سرگوشی میں خبر دینے کی کوشش کی لیکن کسی اعلی اہلکار کے نہ ملنے کی وجہ سے تصدیق یا تردید نہ ہوسکی۔   وہاں سے رخ قریبی پاکستان حج مشن ہسپتال کا کیا تاکہ پاکستانی حجاج کی صحت کے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکیں وہاں بھی نہ کوئی اعلیٰ افسر ملا نہ کسی نے بات کرنے کی کوشش کی۔ بتایا گیا ایم او سی نامی کسی جگہ سے پہلے اجازت لے کر آئیں۔ ایک بات آن ریکارڈ بغیر پوچھے بتائی گئی کہ ’فوجی اہلکار سول انتظامیہ کی مدد کے لیے یہاں موجود ہیں۔‘  اسی اجازت کے انتظار میں ایک ڈاکٹر سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ شوگر کے مریض حجاج کو سب سے زیادہ مسائل درپیش ہیں۔ بعض مریضوں نے تو آب زم زم جب سے پینا شروع کیا تو ادویات لینا چھوڑ دیں جس سے ان کی حالت خراب ہوئی۔ ان کا استفسار تھا کہ آب زم زم سے انہیں شفا ملے گی۔ پھر لوگ حج شروع ہونے سے قبل اپنے آپ کو تھکا دیتے ہیں۔ حج یقیناً ایک مشکل اور صحت کے اعتبار سے ڈیمانڈنگ کام ہے۔ اپنی توانائیاں نہایت سوچ سمجھ کر استعمال کرنی چاہییں۔  مجھے نہیں معلوم دیگر مذاہب کتنے ’ڈیمانڈنگ‘ ہیں لیکن اسلام یقیناً اپنے پیرو کاروں سے بہت کچھ مانگتا ہے۔ وہ اس سے روزانہ پانچ وقت حاضری کا تقاضہ کرتا ہے، سال میں ایک مرتبہ مال متاع کی صفائی کا موقع دیتا ہے، ایک ماہ کھانے پینے اور بداعمال سے پرہیز کا حکم دیتا ہے اور صاحب توفیق سے حج جیسی کثیرالجہت فرض زندگی میں ایک بار ادا کرواتا ہے۔ اسی لیے حج جمع ہے تمام عبادات کی۔ یہ دیگر عبادات سے زیادہ محنت ہے، خرچہ ہے اور سفر ہے یعنی یہ مجموعہ ہے، نچوڑ ہے تمام عبادات کا۔ اس سال 10 لاکھ حجاج کرام جن میں تقریباً 81 ہزار پاکستان سے ہیں مذہبی فریضہ ادا کریں گے۔ یہ کوئی چھوٹا انتظام نہیں۔  پاکستانی حکام کے مطابق عازمین کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب منیٰ پہنچانے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ منی میں تمام پاکستانی حجاج کو ٹھہرانے کے لیے جمرات کے قریب اولڈ منیٰ میں جگہ حاصل کی گئی ہے جس کی وجہ سے انہیں مزدلفہ سے واپسی پر رمی کرنے کے لیے زیادہ مسافت طے نہیں کرنی پڑے گی۔ نو ذی الحج جمعے کو حج کے رکن اعظم ’وقوف عرفات‘ کے لیے عازمین میدان عرفات روانہ ہوں گے جہاں وہ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے۔ وقوف عرفات کے بعد نماز مغرب پڑھے بغیر حجاج کرام میدان عرفات سے مزدلفہ پہنچیں گے جہاں وہ ایک ساتھ مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کریں گے۔ مزدلفہ سے شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں چنیں گے۔ رات کھلے آسمان تلے گزارنے کے بعد دسویں ذی الحج کو نماز فجر کی ادائیگی اور طلوع آفتاب کے فوراً بعد منی روانہ ہوں گے۔ جہاں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جمرات جائیں گے اور بڑے شیطان کو کنکر ماریں گے۔ کنکریاں مارنے کے بعد قربانی کرکے بال منڈوا کر احرام کھول دیں گے۔ اسی طرح 11 اور 12 ذوالحج کو بڑے، درمیانے اور چھوٹے شیطان کو بھی کنکریاں مارنا مناسک کا حصہ ہے۔ احرام کھولنے کے بعد حجاج کرام 10سے 12 ذی الحج کے درمیان کسی بھی وقت بیعت اللہ شریف آکر طواف زیارت کر سکتے ہیں۔ طواف زیارت میں بیعت اللہ شریف کے سات چکر اور سعی شامل ہے۔ ہزاروں سعودی اور دیگر ممالک کے اہلکار اس مذہبی عبادت کو عازمین کے لیے آرام دے اور روح پرور بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ حج کا خطبہ بھی 10 زبانوں بشمول اردو میں نشر کیا جائے گا۔ عازمین کا بھی اس میں بہت بڑا کردار شامل ہے۔ اور بھی بہت سے سہولیات اور اقدامات ہیں جن کا ذکر آنے والے دنوں میں ان شاء اللہ رہے گا۔

‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button