تازہ ترینکھیل

بڑھتی ہوئی تیل کی قیمت….شندروپولو فیسٹول صاحب استطاعت اور شرفا کا میلہ بن کررہ گیا ہےم

چترال ( محکم الدین ) بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں نے جہاں اشیاء کو لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیاہے ۔ وہاں ٹرانسپورٹ کرایوں میں ہوشربا اضافے نے کم وسائل والے سیاحت کے دلدادہ افراد کومشکل میں ڈال دیا ہے ۔ جس کا ثبوت جاری شندور پولو فیسٹول میں چترال کے مقامی سیاحوں کی سابقہ ادوار کے مقابلےمیں د لچسپی میں کمی ہے ۔ وہ افراد جو کم اخراجات میں شندور فیسٹول میں شرکت کے بہانے چترال کے کونے کونے اور ملک کے بڑے شہروں سے قطاروں کی شکل میں آکر میلہ کا لطف اٹھاتے تھے۔ اب تیل کی بھاری قیمتوں کے باعث کرایے برداشت کرنے کے متحمل نہیں رہے ہیں ۔ اس لئے شندور فیسٹول صاحب استطاعت اور شرفا کا میلہ بن کررہ گیا ہے ۔ اور سینکڑوں کی تعداد میں وہ لوگ خصوصا نوجوان جو فیسٹول میں ہر صورت شریک ہوتے تھے ۔ اخراجات کے بھاری بوجھ کی وجہ سے شرکت منسوخ کر دی ہے ۔ یوں شندور پولو میلہ صرف صاحب استطاعت والوں کا فیسٹول بن کر رہ گیا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ اپر اورلوئر چترال کی طرف سے گاڑیوں کرایوں اور بکنگ کے حوالےسے خاموشی نے ڈرائیور برادری کو موقع فراہم کیاہے ۔ کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق بکنگ اور کرایہ وصول کریں ۔ یو ں چترال شہر سے شندور تک کار ( غوگئے) کی بکنگ 30 سے 35 ہزار لینڈ کروزر بکنگ 45 سے 55 ہزار روپے وصول کئے جارہے ہیں ۔ جو کم وسائل والے سیاحوں کی برداشت سے باہر ہیں ۔ ایسے میں سفید پوش اور کم خرچ پر سفر کر نے والے افراد کیلئے اتنی رقم ادا کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ تو خود بخود مستقبل میں یہ فیسٹول سرکاری خزانے سے استفادہ حاصل کرنے والے آفیسران اور مستحکم مالی استطاعت کے حامل لوگوں کیلئے مخصوص ہوکر رہ جائے گا ۔ شندور فیسٹول میں شرکت کیلئے جانے والے سیاح اپر چترال انتظامیہ کی طرف سے ناقص منصوبہ بندی اور سڑکوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق شندور کے راستے میں جہاں پیڈو اور پیسکو کے تنازعے کی وجہ سے سیاحوں کو آٹھ گھنٹوں تک سڑک کےکھلنے کا انتظارکرنا پڑا۔ وہاں لاسپور کے مختلف مقامات میں گلیشئیر کے نالوں میں آنے والے سیلابی ملبے کی وجہ سے جھاڑیوں اور پتھریلی زمین پر رات گزارنےپربھی سیاح مجبور ہوئے ۔ سیاحوں نے افسوس کا اظہارکیاہے ۔ کہ ایک طرف حکومت سیاحت کو ترقی دینے کے نام پر فیسٹول کا انعقاد کرنے کیلئے اشتہاری مہم چلا رہا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف خستہ حالی کے شکار سڑکوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ جس کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سیاح ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث چترال کی ملکی اور بین القوامی سطح پر سبکی ہو رہی ہے۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button