تازہ ترینمضامین

پروانہ علم…..تحریر..شہزادہ مبشیرالملک

 

کسی شاعر نے کیا خٶب کہا ہے۔
آدمی چاہے تو تقدیر بدل سکتا ہے
پوری دنیا کی وہ تصویر بدل سکتا ہے

آدمی سوچ تو لے اس کا ارادہ کیا ہے۔
اگست 980ء خرشین بخارہ میں پیدا ہونے والے ایک بچے نے فیصلہ کیا کہ اپنی تقدیر بدل کر دنیا کو دیکھا دے گا۔ کیونکہ ملکی حالات اور وسایل ایسے نہ تھے کہ ان کا یہ کہنا درست مان لیا جاتا۔

دس سال کی عمر میں قرآن مجید کے حافظ بن گیے۔پھر ریاضی ، ادب ،فلسفہ ، کلام ، فقہ اور طب کا مطالعہ کیا مختلف اساتذہ سے استفادہ حاصل کیا بلکہ اساتذہ کی تحقیق پر بس نہیں کی بلکہ اپنی جستجو تجربوں اور مشاہدوں کی صورت جاری رکھی اور علمی سفر کے منازل طے کرتے گیے۔

اٹھارہ سال کی عمر تک دن رات پڑھتے رہے۔کتاب بینی کو مشغلہ بناءے رکھا بعض راتیں ایسی بھی آییں کہ پڑھتے پڑھتے فجر کی آذان ہوگءی۔ مابعدالطبیعات پر ایک کتاب چالیس مرتبہ دھریا۔ کسی نے اس موضع پر ۔۔۔ فارابی۔۔۔ کی کتاب پڑھ کر عبور حاصل کرنے کو کہا ۔کتاب خریدی اور سمجھ جانے کے بعد شکرانے کے نوافل کے ساتھ خیرات بھی کیے۔جب بھی کسی مسلے میں الجھن پیش آتی تو ۔۔۔ استخارہ۔۔۔ اور ۔۔صلوہ حاجات۔۔۔ کے زریعے اللہ کی مدد حاصل کر لیتے۔ ان کے بارے میں مشہور ہوا تھا کہ وہ۔۔۔ جاگتے میں سوچتے زیادہ ہیں اور نیند میں دیکھتے زیادہ ہیں۔ وہ نیند میں بھی مسایلوں میں الجھے رہتے اور کیی مشکل مسایل حالت خواب میں حل کیے۔
مطالعہ کا ذوق و شوق اور لگن ایسا تھا کہ درجوں کتابیں تحریر کیں ان کی کتاب ۔ ۔ ۔ الحاصل و الحصول۔ ۔ ۔
بیس جلدوں پر مشتمل تھی۔ ۔ ۔ الانصاف ۔ ۔ ۔ بیس جلد ۔ ۔ ۔ الشفاء ۔ ۔ ۔ اٹھارہ جلد ۔ ۔ ۔ لسان العرب ۔ ۔ ۔ دس جلد اور کءی اور ضخیم کتب کءی کءی جلدوں پر تر تیب دیے۔
۔ ۔ ۔ القانون ۔ ۔ ۔ طب کی دنیا کے لیے لکھ کر پوری دنیا کو حیرت میں مبتلا کیا جو آج بھی ایک شہکار مانی جاتی ہے۔ اس کے کچھ حصے ۔ ۔ ۔ حمیات القانوں ۔ ۔ ۔ کے نام سے درس نظامی میں شامل رہے۔
فلسفہ و ساءنس ان کے ۔۔۔ عقیدے۔ ۔ ۔ پر حاوی رہے لیکن آخر توبے کی توفیق نصیب ہوءی۔ آخر وہ دن بھی اہی گیا جب سب کو اس جہان فانی سے رخصت ہونا ہی ہوتا ہے ۔دنیا بھر کو علمی روشنی دینے اور علاج سے آشنا کرنے والے اپنا علاج نہ کرا سکے اور سلطان وقت علاء الدین کے ساتھ ایک سفر کے دوران ۔ ۔ ۔ ہمدان ۔ ۔ ۔ میں 1038ء کو رمضان کے مہینے میں جان جان آفرین کے حوالے کر گیے ۔ لوگ آج بھی اسے۔ ۔ ۔ حسین بن علی ( ابن سینا ) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button