تازہ ترینمضامین

تلخ حقیقت !- آہ شہزادہ محی الدین (مرحوم) ….. تحریر!قاری نجم الدین نجمی کھوت

موت کے قانون سے کوئی مستثنیٰ نہیں نہ نبی نہ ولی نہ عالم نہ جاہل نہ نیک نہ بد نہ مومن نہ کافر نہ شاہ نہ گدا اپنے اپنے وقت پر سب ہی نے جانا ہے لیکن جانے والوں میں کچھ ایسے بھی خوش بخت ہوتے ہیں جن کے نقش پا سے زندگی راستے ڈھونڈتی ہے قومیں ان کے نور سے روشنی پاتی ہیں انسانیت ان سے غازہ حسن مستعار کرتی ہے شرافت ان پر ناز کرتی ہے اور محبوبیت انہیں دیکھ دیکھ کر اپنے کا کل و گیسو سنوارتی ہے ایوان علم ان کے بہار آفریں وجود سے گل و لالہ بن جاتا ہے مجروح قلب ان کے انفاس سے مرہم شفا پاتے ہیں وہ شمع کی مانند خود پگھلتے ہیں مگر مخلوق خدا پر ضوفشانی کرتے ہیں خود جلتے ہیں مگر دوسروں کو جلا بخشتے ہیں خود بے قرار رہ کر دوسروں کو راحت وسکون عطا کرتے ہیں ان کے آئینہ رخ زیبا میں یاد خدا کی تصویر جھلکتی نظر آتی ہیں ان کی دید آنکھوں کو نور اور دل کو سرور عطا کرتی ہیں وہ خاموش ہو تو ہیبت و وقار پر باندھے پہرہ دیتے ہیں بات کریں تو موتی رولتے ہیں مسکرائیں تو پھول برساتے ہیں ناز کریں تو آسمان سے صدائے لبیک آتی ہیں اور گڑ گڑائے تو عرش الٰہی کانپ جاتاہے یہ لوگ بھی دنیا سے جاتے ہیں مگر اس شان سے جاتے ہیں کہ ہر چہار سو صف ماتم بچھ جاتی ہے ٫ آسمان وزمین نوحہ کرتے ہی، انسانیت کا پرچم سرنگوں ہوتا ہے، اور قصرملت میں زلزلہ آجاتاہے جیسے ہم سب کا خصوصاً میرے بڑے بھائی حوالدار اسلام الدین کا جانی دوست اور مجھے ہمیشہ (میرے کپتان)کے نام سے پکارا جانے والا سابق ایم پی اے سید احمد خان اور مرحوم چیئرمین میر گلزار خان بابائے کھوت کو ساتھ لیکر چترال کو گل گلزار بناکر چترال کی قسمت بدلنے والا اور وفاق میں وفاقی وزیر سیاحت اور کئی کئی عہدوں کے مالک اور اپنے چترالی قوم کی صحیح معنوں میں بلا تفریق خدمت کو اپنا شعار بنانے والا ایک عظیم شخصیت سابق وفاقی وزیر سیاحت محترم جناب شہزادہ محی الدین مرحوم چند ہفتہ پہلے ہم سے جدا ہوکر داعئی اجل کو لبیک کہا اور ہمیشہ کے لئے منوں مٹی تلے خاموش ہوگئے اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے اور درجات بلند فرمائے آمین اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین لیکن آج بھی اپنی شائستگی، اعلیٰ ظرفی اور خدمت انسانی کی بناء پر ہمارے دلوں میں زندہ جاوید ہیں اور ہر فرد ان کے بلا تفریق خدمات کے معترف بھی ہیں اور دعاگو بھی ہیں،، خاص بات یہ تھی کہ موصوف مرحوم اپنے سیاسی مخالفین کو بھی اچھے القابات سے نوازاتے اور پکارتے تھے میں عینی شاہد ہوں کئی بار کھوت جنالی میں بھی بڑے اجتماعات سے خطاب میں اپنے سیاسی مخالفین کو بھی شائستہ انداز سے مخاطب کیا اور عوام کے دل جیت لیے اور کھوت والے حضرات بھی اپنے محسن سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور مرحوم کھوت کی طرف خصوصی توجہ دیا کرتا تھا اور یہاں تک مجھے معلوم ہے کہ اپنے شہزادوں کو مرحوم چئیرمن حاجی میرگلزار خان سے مشورہ لیکر سیاسی معاملات نمٹانے کی وصیت بھی کیا تھا اور ان کے دونوں بیٹے شہزادہ افتخار الدین اور شہزادہ پرویز صاحبان وقتاً فوقتاً کھوت تشریف لاکر اور کبھی کبھار چترال موجودگی کے دوران چئیرمن مرحوم سے سیاسی مشاورت بھی کیا کرتے تھے لیکن بد قسمتی سے چیئرمین صاحب بھی دنیا میں نہیں رہے اور امید کرسکتے ہیں کہ شہزادہ مرحوم کے دونوں شہزادے کھوت کے عوام کو نہیں بھولے ہیں اور کہنہ مشق سیاستدان چیرمین مرحوم کے ٹپس بھی یاد کررہے ہوں گے۔۔ ایک زمانہ تھا 2004 میں شہید علامہ علی شیر حیدری کو چترال بلاکر چترال میں جلسے کروانے کے لئے قانونی اجازت لینی تھی اس دوران شہزادہ مرحوم ضلع ناظم تھے ان سے اجازت لینی تھی میں چونکہ اس زمانے میں اسی پارٹی کا ضلعی کنوینر تھا پشاور کی وفد کو لیکر جب میں ضلع ناظم کے آفس جاکر مہمانوں کا تعارف کرواکر اجازت لینے کی درخواست کی تو مرحوم شہزادہ نے ان مہمانوں سے یہ کہا کہ میں اپنے اس کپتان کی وجہ سے تمھیں اجازت دیتا ہوں تو اتنے میں مہمان حضرات نے شہزادہ مرحوم کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی میرے ساتھ خلوص محبت کو دیکھ کر حیران بھی ہوگئے۔۔ آج جو میں نے شہزادہ محی الدین مرحوم کے لئے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کا بے ترتیب استعمال کیا یہ فقط مرحوم کے ساتھ ذاتی تعلقات اور ان کا میرے ساتھ خصوصی محبت کا نتیجہ ہے ایک بار پھر دعاگو ہوں کہ رب لم یزل شہزادہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے آمین۔۔۔۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button