تازہ ترین

قبل ازوقت انتخابات کا فیصلہ اتحادیوں کی مشاورت سے کریں گے‘عوام کو ریلیف دینے کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں. شہبازشریف

لاہور( آوازچترال ) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ہے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت توسیع پر بات چیت قبل ازوقت ہے جب وقت آئے گا تو فیصلہ کریں گے‘موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت ایک سال تین ماہ باقی ہے قبل ازوقت انتخابات کا فیصلہ اتحادیوں سے مل کر کریں گے لاہور میں مسلم لیگ نون کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاﺅن میں ایڈیٹروں اور سنیئرصحافیوں سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے آلہ کار بن کر جانبداری سے کام لے رہے ہیں ہمارے پاس دو راستے تھے ایک ان کے ساتھ مل کر احسن طریقے سے معاملات کو طے کیا جائے ‘دوسرا ان کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن ڈائرکی جائے ہم نے پہلے والے آپشن کو اپنایا مگر نتائج سے مایوسی ہوئی . اس موقع پر وفاقی وزراء مفتاع اسماعیل‘رانا ثنا ءاللہ‘مریم اورنگزیب ‘خواجہ سعدرفیق‘نون لیگی راہنما عطا تارڑ‘ملک احمد خان اور دیگر بھی موجود تھے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ عمران خان کو اسٹبلشمنٹ نے جس لاڈ سے چار سال رکھا اور بھرپورسپورٹ دی اس کی ملکی تاریخ میں کوئی اور مثال نہیں ملتی مگر عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ وہ اس سب کچھ کے باوجود ڈیلیورنہیں کرپائے انہوں نے کہا کہ عمران خان خارجہ پالیسی کی بات کرتے ہیں آج پاکستان کے چین‘سعودی عرب اور امریکا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات اس لیے خراب ہیں کہ سابق وزیراعظم نے دوست ممالک کو ناراض کیا انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو اٹیمی دھماکے روکنے کے لیے بل کلنٹن نے فون کیا تھا مگر انہوں نے absolutely not نہیں کہا تھا بلکہ امریکی صدر کی آفر پر شکریہ اداکرکے دھماکے کردیئے تھے . انہوں نے کہا کہ بھارت کے کشمیر کا مسلہ کورایشو ہے مگر باقی امورپر بات چیت ہوسکتی ہے دونوں طرف غربت ہے ہم ایک دوسرے کی مددکرسکتے ہیں اس کے لیے بھارت کو بھی قدم آگے بڑھنا ہونگے . ایک اور سوال کے جواب میں شہبازشریف نے کہا کہ فوج بڑامعتبرادارہ ہے اور اس نے ملکی دفاع کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں فوج کا نام سیاسی مقاصد کے استعمال کرنا درست نہیں . لیٹرگیٹ کمیشن اور قومی سلامتی کونسل کے اجلاس سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے جواب نہیں دیا تاہم وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے صحافی کے میڈیا انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حوالے سے سوال کے حصے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم معاملات کو دیکھ رہے ہیں اور کوشش ہے کہ سرکاری محکموں یا حکومت کے ذمے جتنے بھی واجبات ہیں ان کی ادائیگی کو ممکن بنایا جائے ‘گندم کی کم پیدوار کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ سابق حکومت نے کسانوں کو بروقت کھاد مہیا نہیں کی اور کھاد بلیک مارکیٹ میں بکتی رہی عمران خان حکومت نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری گندم کی پیدوارتین سو ملین ٹن کم رہے گی انہوں نے کہا کہ گندم اور آٹے کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے وزیرداخلہ کو اقدامات کرنے کی ہدایت کردی ہے انہوں نے کہا کہ کے پی کے سمیت تمام صوبوں کو ان کے کوٹے کے مطابق گندم مہیا کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہم نے رمضان میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیئے تھے اب جلد ہی ریلیف کے اور مزیدپروگرام لے کرآرہے ہیں تاکہ عام شہریوں پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جاسکے . وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فوج کسی پارٹی یا گروہ کا نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام کا ادارہ ہے جس کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، ہمیں فوج کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، ہمیں فوج کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے‘شہباز شریف نے کہا کہ آزادی اظہار رائے پر کوئی پابندی نہیں لیکن ملک میں انارکی کو ہوا دینے پر مکمل پابندی ہے، حکومت قانون میں رہتے ہوئے غیر آئینی اقدامات کی مو¿ثر انداز میں حوصلہ شکنی کرے گی، ہم انصاف و قانون کے داعی ہیں انتقام کا لفظ ہماری فہرست میں شامل نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں سستے آٹے کی فراہمی کے لیے صوبائی حکومت نے حصہ نہ بھی ڈالا تو ہم وفاق سے سستے آٹے کی فراہمی کے لیے مدد دیں گے کیونکہ کے پی کے بھی پاکستان کا ہی حصہ ہے انہوں نے کہا کہ ترجیحی بنیادوں پر چھوٹے صوبوں کے مسائل پر توجہ دے رہے ہیں. تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے مگر کسی کوقانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی مگر 2014کے دھرنے میں انہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ قوم کو یاد ہم اسے دہرانے کی اجازت ہرگزنہیں دیں گے . سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے رو س سے 30فیصد کم ریٹس پر تیل اور گندم خریدنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں کس نے روکا تھا ؟ اگر 30فیصد کم نرخوں پر گندم اور تیل مل رہا تھا تو لے آتے شہبازشریف نے کہا کہ انہیں احساس ہے مہنگائی بہت زیادہ ہے لہذا وہ عوام کو ریلیف دینے پر کام کررہے ہیں ابھی ہم شارٹ ٹرم منصوبوں پر کام کریں گے آئندہ انتخابات میں اگر قوم نے ہمیں موقع دیا تو پھر لانگ ٹرم منصوبے لے کرآئیں گے .

Facebook Comments

متعلقہ مواد

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button