تازہ ترینمضامین

دیہاتی بزرگوں کی تنہاءی….از…شیر والی خان اسیر

جوں جوں زمانہ آگے بڑھتا جا رہا ہے توں توں دیہات کے سن رسیدہ افراد کے لیے زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ مادی لحاظ سےآسودگی میسر ہونے کےباوجود بڑے بوڑھوں کو تنہائی کی عفریت کھائے جا رہی ہے۔ بچے تعلیم اور ملازمت کی مجبوریوں میں جکڑے رہتے ہیں اور عموماً گھروں سے باہر رہتے ہیں۔ بوڑھے والدین کی طرف ان کا دھیان رہتا ہے اور وہ بھی ہمہ وقت پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ ہم عصر بزرگ لوگ اپنے اپنے گھروں میں گویا مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔ گاؤں میں موجود لوگوں میں کوئی بھی ایسا نہیں ملتا جو اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر ان بزرگوں کو دے سکے۔ چند لمحے ان کے پاس بیٹھ کر ان کی تنہائی دور کر سکے۔ پڑھے لکھے بزرگ کتابوں میں دوست ساتھی ڈھونڈ نکالتے ہیں لیکن کب تک کتابوں میں گھسے رہیں گے؟ ہر سرگرمی کی کوئی حد ہوتی ہے۔ حد سے تجاوز ہو تو بوریت پیدا ہوتی ہے۔ ان پڑھ بزرگوں کے پاس لے دے کے ٹی وی ہوتا ہے وہ بھی مستقل بجلی کی فراہمی سے مشروط ہے جو دیہاتوں میں نایاب چیز ہے۔
دیہات کے لوگ لڑکپن سے اپنی زراعت اور باغبانی کے کاموں میں محنت مشقت کے عادی ہوتے ہیں۔ بڑھاپے میں یہ بھی نہیں کر سکتے۔ ایک جگہہ بیٹھے بیٹھے ان کا تنگ ہونا فطری بات ہے۔
لہذا ان بڑے بوڑھوں کے لیے تفریحی مراکز کا قیام لازمی ہوگیا ہے جہاں وہ بہ آسانی آ جا سکیں اور آپس میں گپ شپ یا کسی انڈور گیم کھیل کر اپنا وقت بہتر طور پر گزار سکیں۔ہماری حکومتوں سے اس قسم کی سہولت مہیا کرنے کی امید نہیں ہے البتہ غیر سرکاری تنظیمات سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اس اہم مسلے کی طرف بھی توجہ دیں۔
جہاں تک مجھے یاد ہے اسمعیلی مسلمانوں کے حاضر امام پرنس کریم آغاخان چہارم نے اپنے گولڈن جوبلی کے خطبے میں اس موضوع پر فرمان کیا تھا۔ شہروں میں اس پر عمل درآمد بھی ہوا تھا لیکن دیہات کےبزرگ تا حال اس سہولت سے محروم ہیں جس کی وجہ معلوم نہیں۔ ان دنوں کسی امدادی پروگرام کے تحت اسمعیلی کونسل کی طرف سے مختلف گھریلو سامان تقسیم کرنے کے بارے سنا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس پروگرام میں بڑے بڑے گاؤنوں کے بزرگوں کے لیے تفریح گاہ کا انتظام ہو جائے۔یہاتی

Facebook Comments

متعلقہ مواد

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button