تازہ ترین

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں

اسلام آباد (  اواز چترال ) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ آج کی پریس بریفنگ کا مقصد قومی سلامتی صورتحال سے آگاہ کرنا تھا، پریس کانفرنس کے بعد کسی بھی قسم کا سوال کیا جا سکتا ہے، جو حالات چل رہے ہیں ان کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔انہوں نے پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ دو روز قبل آرمی چیف کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈر کانفرنس ہوئی۔ افواج، ادارے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔پچھلے چند ہفتوں میں بلوچستان میں صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔3 ماہ کے دوران 128 دہشتگردوں کوہلاک کیا گیا۔آپریشن کے دوران 97 جوانوں نے جام شہادت نوش کی۔ پاکستان کی داخلی اور بارڈر سیکیورٹی مستحکم ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف چلنے والی مہم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عوام اور سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں ، ہم اس سے باہر رہنا چاہتے ہیں۔ نہ یہ کوشش پہلے کامیاب ہوئی نہ اب ہو گی، بہتر ہے کہ فیصلے قانون پر چھوڑ دیے جائیں۔ پراپیگنڈا مہم غیر قانونی،ملکی مفاد کے خلاف ہے۔بےبنیاد کردار کشی کسی صورت قبول نہیں،تعمیری تنقید مناسب ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر سے خفیہ خط سے متعلق قومی سلامتی اجلاس کے اعلامیے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں،کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیں گے۔ ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آپشنز اسٹیبلمشنٹ کی طرف سے نہیں دئے گئے، وزیراعظم آفس کی جانب سے پیغام موصول ہوا تھا جس کے بعد 3 آپشنز پر بات چیت کی گئی۔ان کے ساتھ بیٹھ کر 3 آپشنز پر بات ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق بات کرنے میں محتاط رہنا چاہئیے۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button