تازہ ترینمضامین

الیکشن جاءزہ…تحصیل کونسل چترال…ظہرالدین

ضلع لویر چترال کے تحصیل چترال کی چیرمین شپ کے لئے چار مختلف سیاسی جماعتوں کے نامزد امیدوار اور دو آزاد امیدوار میدان میں اترگئے تھے جن میں شہزادہ امان الرحمن (پی پی پی)، مولانا عبدالرحمن (جے یو آئی کا نامزد اور پاکستان مسلم لیگ۔ن اور راہ حق پارٹی کا مشترکہ امیدوار)، قاضی فیصل احمد سعید (پی پی پی) اور وجیہہ الدین(جماعت اسلامی) جبکہ آزاد امیدوار کے طور پر حاجی رشید احمد اور امیر اللہ شامل تھے۔ چترال کے چاروں تحصیلوں میں سب سے ذیادہ رقبہ اور ووٹرز رکھنے کی وجہ سے سب سے ذیادہ اہمیت کا حامل رہا۔ اس تحصیل کے بڑے بڑے علاقوں میں کالاش ویلیز، ایون، چترال ٹاؤن، کوہ اور لوٹ کوہ (تین یونین کونسلوں پر مشتمل) شامل ہیں جبکہ ووٹروں کی تعدادایک لاکھ 13ہزار 516ہے جن کے لئے 104پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے تھے۔
حسب سابق تحصیل لوٹ کوہ کے ووٹروں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا جہاں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 37407ہے جن میں سے 20529ووٹ پول ہوئے۔اس علاقے میں پی ٹی آئی اور پی پی پی کے درمیاں کانٹے دار مقابلے کی توقع تھی لیکن پی ٹی آئی کے شہزادہ امان الرحمن کو اس علاقے سے 13953کی بھاری تعداد میں ووٹ پڑگئے جوکہ ان ہی ووٹوں سے کامیاب تھے کیونکہ ان کا قریب ترین حریف مولانا عبدالرحمن نے مجموعی طور پر 13285ووٹ حاصل کیا تھا۔ وادی لوٹ کوہ سے پی پی پی کو 3874، جماعت اسلامی کے وجیہہ الدین کو 1209، ا جے یو آئی، مسلم لیگ۔ن اور راہ حق پارٹی کے مشترکہ امیدوار کو 855،ا س علاقے کے ایک آزاد امیدوار امیراللہ کو 544اور آزاد امیدوار رشید احمد کو صرف 94ووٹ مل گئے۔ اس علاقے میں پی ٹی آئی کی کامیابی میں دوسرے عوامل کے علاوہ امیدوار کا مقامی ہونا، پی ٹی آئی کے سینئر لیڈر اسرار الدین صبور کی موجودگی اور پہلے سے یہاں پی ٹی آئی کا بھاری ووٹ بنک ہونا اور سابق ممبران ضلع کونسل محمدحسین (کریم آباد) اور محمد یعقوب(گرم چشمہ، گوبور) اور دوسرے رہنماؤں کی سرتوڑ کوشش بتائے جاتے ہیں۔ پی پی پی کے امیدوار کے لئے اس علاقے میں مثبت عوامل میں سابق صوبائی وزیر اور دو دوفعہ مسلسل ایم پی اے منتخب ہونے والے پی پی پی لیڈر سلیم خان کی موجودگی، پہلے سے اس علاقے کا پی پی پی کاگڑھ ہونا اور امیدوار کا سسرال گرم چشمہ میں واقع ہونا اور ان کے سسر کا علاقے میں نمایان سیاسی وسماجی حیثیت شامل تھے۔ 31مارچ سے پہلے دونوں اطراف سے اپنے اپنے حق میں بلند بانگ دعوے سامنے آتے تھے جبکہ جماعت اسلامی اور سہ فریقی اتحاد نے بھی اس علاقے سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے۔ اس دفعہ بھی اہالیان لوٹ کوہ نے مثالی اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہزادہ امان کی کامیابی کے لئے راہ ہموار کرتے ہوئے 1985ء کے عام انتخابات کی تاریخ تازہ کردی جب جماعت اسلامی کے امیدوار مولانا عبدالرحیم چترالی کی جیتی ہوئی بازی کو لوٹ کوہ کے نتائج نے یکایک شکست میں تبدیل کرتے ہوئے شہزادہ محی الدین کو ایم این اے اور لوٹ کوہ سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار ظفراحمد کو ایم پی اے منتخب کیا تھا۔ اس دفعہ شائد اس اتفاق میں ذیادہ گرما گرمی آئی تھی کہ دو دفعہ ایم پی اے منتخب ہونے والے سلیم خان کے آبائی پولنگ اسٹیشن نارکوریت میں بھی پی پی پی کو شکست ہوئی جہاں شہزادہ امان کی 379کے مقابلے میں 272ووٹ ملے اور اسی طرح گرم چشمہ خاص کے دو پولنگ اسٹیشنوں میں پی پی پی کو 125اور شہزادہ امان کو 774ووٹ پڑگئے اور مجموعی طور پر بھی کسی ایک پولنگ اسٹیشن میں پی پی پی نے پی ٹی آئی سے سبقت نہیں لی۔
چترال ٹاؤن (بکرآباد سے شالی اور دنین تک بشمول اورغوچ)میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 31823ہے جن میں سے 19205ووٹ کاسٹ ہوئے۔ چترال ٹاؤن میں چاروں امیدواروں نے ایک دوسرے کے ساتھ زبردست مقابلہ کیا لیکن معمولی اکثریت جماعت اسلامی نے حاصل کرلی جسے4725ووٹ پڑگئے جبکہ مولانا عبدالرحمن 4497، قاضی فیصل 3702اور شہزادہ امان 3266حاصل کرلی۔اسی طرح کوہ (کوغوزی سے لے کر برنس تک) کے 13پولنگ اسٹیشنوں میں 3177ووٹ لے کر مولانا عبدالرحمن سبقت لے گئے جبکہ پی ٹی آئی 1716، جماعت اسلامی 1415اور پی پی پی 1278ووٹ لے سکے۔
ایون کے پانچ پولنگ اسٹیشنوں میں دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا جہاں سات پولنگ اسٹیشنوں میں 4150ووٹوں کے لئے چاروں امیدواروں نے سب کے سب 900کے رینج میں ووٹ لیا اور جہاں مولانا عبدالرحمن (981)نے تین، وجیہہ الدین (974)نے دو اور پی پی پی(901) اور پی ٹی آئی(922) نے ایک ایک پولنگ اسٹیشن میں سبقت لے گئے۔ کالاش وادیوں بمبوریت، بریر اور رمبور میں بھی پی ٹی آئی سبقت لیتے ہوئے 1743ووٹ حاصل کئے جبکہ مولانا عبدالرحمن نے 1271، قاضی فیصل نے 1089اور وجیہہ الدین نے 715ووٹ حاصل کی۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button