تازہ ترین

اسمبلی تحلیل، وزیراعظم، نہ اپوزیشن لیڈر، نگران سیٹ اپ کون بنائیگا

اسلام آ باد (  اوازچترال ) صدر مملکت کی جانب سے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد اس وقت ملک عملاً ایک آئینی اور انتظامی بحران کی زد میں ہے .  ہر شہری کے ذہن میں سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہو گا،پوری قوم کی نظریں اس وقت سپریم کورٹ کی جانب لگی ہیں ، صورتحال سپریم کورٹ کے فیصلہ سے واضح ہوگی ۔ قومی اسمبلی کی تحلیل اور وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ڈپٹی سپیکر کی جانب سے مسترد کرنے کا معاملہ چونکہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اسلئے کئی سوالوں کا جواب سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ملے گا جس کا سب کو انتظار ہے تاہم آئین کے تحت جب قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرتی ہے اور حکومت ختم ہوتی ہے تو نگران حکومت قائم کی جا تی ہے جو 90دنوں میں عام انتخابات کراتی ہے  نگران حکومت کا قیام آئین کی شق 224 کے تحت عمل میں آتا ہے جس کی ذیلی شقوں کے مطابق اگر شق 58 کے تحت اسمبلی تحلیل ہو جائے، تو صدرِ مملکت وزیرِ اعظم اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے نگران وزیرِ اعظم تعینات کریں گے. تاہم یہ تعیناتی صدرِ مملکت کا اختیار نہیں بلکہ یہ قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم کے اتفاق کے بعد عمل میں آتی ہے۔اور اس کام کے لیے اُن کے پاس اسمبلی کے تحلیل سے لے کر صرف تین دن کا وقت ہوتا ہے۔ ایک بار ان کے نام پر اتفاق ہو جائے تو صدرِ پاکستان اس نام کی منظوری دیتے ہیں اور جب تک نگران وزیرِ اعظم نہ آ جائے، اس وقت تک عمران خان ہی وزیرِ اعظم رہیں گے۔اگر عمران خان اور شہباز شریف کسی نام پر متفق نہ ہوئے تو؟پھر یہ معاملہ ایک پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا جو آٹھ ارکان پر مشتمل ہو گی۔ پرابلم یہ ہے کہ اس وقت قومی اسمبلی تو تحلیل ہو چکی ہے، تو پھر یہ کمیٹی کیسے قائم ہو گی، اس میں کون لوگ شامل ہوں گے، اور یہ بھی اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی تو؟ آئین میں اس بات کی گنجائش ہے کہ یہ کمیٹی قومی اسمبلی کے ارکان کے ساتھ ساتھ مکمل طور پر سینیٹ کے ارکان پر بھی مشتمل ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button