تازہ ترینمضامین

گورین گول پل شیشی کوہ…..تلخی و غلط فہمی……افنان علی شاہ دروش، چترال

حالیہ دنوں گورین گول شیشی کوہ میں رونما ہونے والے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کے بعد اس واقعے کی تفصیل واضح کر کے مقامی لوگوں اور عوامی نیشنل پارٹی سے نامزد امیدوار برائے چئیرمین تحصیل کونسل دروش کے مابیں رونما ہونے والی تلخی و غلط فہمی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ چونکہ اس وادی میں گاؤں کے ساتھ ہمارے کاپر (copper) کا مائن موجود ہے جو کہ ۳۰ سالہ لیز پر محکمۂ معدنیات سے حاصل شدہ ہے۔ اس مائن میں ہم نے دو دوست جن کا تعلق کراچی سے ہے’ کو شراکت دار بنایا ہوا ہے۔ چند ماہ قبل اس مائن کے وزٹ کے دوران دریا عبور کرتے ہوئے وہاں موجود پیدل پل جو کہ گاؤں کے لوگوں کے لئے نہایت خطرناک تھا’ اور چند حادثات بھی رونما ہوئے تھے۔ ان تمام وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پل کی تعمیر کا بیڑا ہمارے دوستوں نے اٹھایا۔ اور پل تعمیر ہوا۔ مقامی لوگوں کا وعدہ تھا کہ ہم رضاکارانہ طور پر افرادی قوت فراہم کریں گے۔ جبکہ دیگر تمام اخراجات بشمول میٹیرئیل کی ذمہ داری ہمارے گروپ کے کھاتے میں آگئی۔ یوں یہ پل اپنی تکمیل کو پہنچا۔ مگر چند روز قبل مقامی لوگوں سے رابطے اور مشہورے کے بعد پل کے افتتاح کے لئیے خدیجہ بی بی کو مدعو کیا گیا۔ جن کے جانے پر وہاں کے مقامی لوگں نے انکا احسن طریقے سے استقبال بھی کیا جسکے ویڈیو ریکارڈز بھی موجود ہیں۔ بدقسمتی سے ایک غلط فہمی کا آغاز اس نقطے پر ہوا کہ بورڈ پر اس کی لاگت 6.2 ملین درج تھا۔ جبکہ بورڈ پر لکھنے والے کو 2.6 ملین یعنی ۲۶ لاکھ کا بتایا گیا تھا جس کا بعد میں علم ہوا اور یہ کوتاہی اس نوبت تک پہنچ گئی۔ جسکی اطلاع مجھے موصول ہوئی۔ اور مقامی ذمہ داران سے انکے کچھ بقایا جات جو ہماری طرف رہتے ہیں کو بھی ادا کرنے کی یقین دہانی ہوئی جسکی تفصیل بھیجنے پر ادائیگی ہوگی تاہم ابھی تک نہیں ملے۔۔ اور گریل وغیرہ کا کام بھی باقی ہے۔دو اشاریہ چھ 2.6 کو چھ اشاریہ دو 6.2m کر کے تیار کرنے پر ہم نے بھی اطلاع موصول ہونے پر افسوس کیا چونکہ ہم خود چترال میں موجود نہیں ہیں۔۔ اس لئیے اس پر معذرت خواہ ہیں۔ جبکہ خدیجہ بی بی ہماری طرف سے وہاں گئی تھی۔ اس پل کی تعمیر میں دو نہایت اہم مقاصد کا حصول تھا۔ اول یہ کہ مقامی لوگوں کی محرومی کا ازالہ ممکن ہو۔۔۔ جو کہ ماضی کے نمائندون کی نا اہلی’ ناکامی اور بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ آج تک کسی نے بھی توجہ نہیں دی۔ لہذا اس پر سیاست چمکانے اور اس میں ۲۰ اور ۲۵ ہزار کا عطیہ دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی بجائے تھوڑا سوچ لین اور پراگریسئیو پالٹکس کا مظاہرہ کریں۔ جبکہ دوسرا مقصد اس گاؤں میں موجود ہمارے کاپر مائن تک رسائی کو ممکن بنانا تھا۔ مقامی گجر اور کھو برادری نے بھی اس میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ جن کی قربانی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ افسوس صرف اس بات کا ہے کہ وہاں پر مذکورہ خاتون کے ساتھ رویہ وہ نہیں رکھنا چاہئیے تھا جو رکھا گیا جس پر افسوس ہے۔ میں علاقہ شیشی کوہ کے قابل فخر فرزند اور چترال کے نامی و گرامی سیاسی و سماجی شخصیت الحاج انجر گل صاحب اور میرے انتہائی بھائیوں جیسے دوست بشارت اقبال ایڈوکیٹ کے والد گرامی اور ہمارے شفیق و بزرگ سیاسی رہنما جناب شیر محمد کسانہ صاحب کی خدمت میں یہ استدعا کرنا چاہتا ہوں کا وہ اس نا خوشگوار واقعے پر دونوں فریقین میں ثالث کا کردار ادا کرکے اس معاملے کو سلجھائیں۔ ماضی میں بھی انکا ایسے مواقع میں نہایت اہم کردار رہا ہے’ جسکی نظیر پورے چترال میں نہیں ملتی۔ اور اس تمام صورت حال میں محترمہ خدیجہ بی بی کو مورد الزام ٹہرانے والے ناقدین فیس بک سے گزارش ہے کہ اس عمل میں انکی کوئی غلطی نہیں ہے۔ انکی حوصلہ افزائی کریں کیونکہ وہ اسی سماج کا حصہ اور قوم کی بیٹی ہے۔ اور ایک ملک گیر سیاسی جماعت میں اعلیٰ عہدہ و منصب پر فائز ہے۔ جبکہ اہلیاں گورین جن میں خصوصی طور پر حاجی تاج محمد، شیر محمد، قاری اسحاق صاحب وغیرہ کا اس منصبے کی تکمیل میں نہایت اہم اور کلیدی کردار رہا ہے اور انکے بغیر اس منصوبے کو مکمل کرنا نا ممکن تھا۔ جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مقامی پولیس’ جس میں ایس ڈی پی او دروش’ ایس ایچ او دروش اور ڈی پی او صاحبہ نے حالات کو تصادم کی طرف جانے سے روکنے کے لئیے جو اقدام کئیے اس پر انکو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہر شہری سے اس بات کی استدعا ہے کہ معاشرے میں توڑ لانے کی بجائے لوگوں کو آپس میں جوڑنے کے لئیے کردار ادا کریں۔ تاکہ اتحاد، اتفاق اور نظم برقرار رہے، اور امن و آشتی پر قائم ماشرے کبھی بھی اندھیروں میں نہیں رہتے۔ یقینا روشن اور پر نور ہوجاتے ہیں۔ شکریہ

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button