تازہ ترین

تحریک عدم اعتماد ؛ حکومت کی سپریم کورٹ کو کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہ روکنے کی یقین دہانی

اسلام آباد ( آوازچترال) وزیراعطم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے حکومت نے سپریم کورٹ کو کسی بھی رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے نہ روکنے کی یقین دہانی کرادی ، اٹارنی جنرل آف پاکستان کہتے ہیں کہ کسی کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے روکا نہیں جاسکتا لیکن ووٹ شمار ہونے پر ریفرنس میں سوال اٹھایا ہے ، ووٹ ڈالنے کے بعد کیا ہوگا یہ ریفرنس میں اصل سوال ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالتِ عظمیٰ میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ملک میں تصادم روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ، جہاں اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے حکومت کی طرف سے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اجلاس کے دن کسی کو اسمبلی آتے وقت ہجوم سے گزرنا نہیں پڑے گا کیوں کہ قومی اسمبلی اجلاس کے موقع پر کوئی جتھہ اسمبلی کے باہر نہیں ہو گا اور کسی رکن اسمبلی کو ہجوم کے ذریعے نہیں روکا جائے گا بلکہ کسی بھی دن اسمبلی کےباہر کوئی ہجوم نہیں ہوگا اور تمام اراکین بغیر کسی رکاوٹ کے اسمبلی آجاسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے بیانات دیے ہیں، ہم پولیس اور متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کررہے ہیں، عوام کو اسمبلی اجلاس کے موقع پر ریڈزون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی ، کوئی رکن اجلاس میں نہ آنا چاہیے تو زبردستی نہیں لایا جائے گا ، پارٹی سربراہ آرٹیکل 63 اے کے تحت اپنا اختیار استعمال کر سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں مزید کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں کو روکا نہیں جاسکتا ، اس نقطے پر حکومت سے ہدایات کی بھی ضرورت نہیں ، البتہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے پر آرٹیکل 63 اے کی کارروائی ہو گی، حکمران جماعت پر ہارس ٹریڈنگ کا کوئی الزام نہیں ہے ، کسی اپوزیشن جماعت پر بھی الزام نہیں لگاؤں گا ، ہم سپریم کورٹ سے کوئی حکم امتناع نہیں مانگ رہے اور صدارتی ریفرنس کی وجہ سے قومی اسمبلی کی کارروائی بھی متاثر نہیں ہوگی ، جب کہ کوئی سرکاری آفیسر بھی غیر قانونی حکم ماننے کا پابند نہیں ہے ، آئینی تقاضوں کو پورا نہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ، یقین دہانی کرواتا ہوں کہ پارلیمانی کارروائی آئین کے تحت ہوگی ۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button