تازہ ترین

وزیراعظم کو یورپ کے معاملے پر عوامی جلسے میں نہیں بولنا چاہیے تھا

اسلام آباد ( آوازچترال) وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو یورپ کے معاملے پر عوامی جلسے میں نہیں بولنا چاہیے تھا، امریکا اور یورپ کی مارکیٹ پاکستانی برآمدات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، قومی سلامتی کو کہیں بھی گروی نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کب کم ہوتی ہیں یہ ابھی معلوم نہیں ہے۔ وزیراعظم کے اعلان کردہ ریلیف پیکج کے مطابق 700 روپے یونٹ تک بجلی کے استعمال پر 5 روپے فی یونٹ کی سبسڈی دی جائے گی، اس پیکج کے تحت 136 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ اس سبسڈی پر ہاتھ ہولا رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کو کہیں بھی گروی نہیں رکھ سکتے، روس اور یوکرین ایشو پر وزیراعظم نے سٹینڈ لیا لیکن میرے خیال سے وزیراعظم کو یورپ کے معاملے پر عوامی جلسے میں نہیں بولنا چاہیے تھا، امریکا اور یورپ کی مارکیٹ پاکستانی برآمدات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔   نیوز ایجنسی کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت سے متعلق سوال کے جواب میں شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم نے پیٹرول پر جو سبسڈی دی ہے وہ اپنے بجٹ میں سے دی ہے، اس لیے اس پر آئی ایم ایف کو تحفظات اور خدشات نہیں ہونے چاہیں عوام پہلے ہی سٹرکوں پر ہیں ہاتھ ہولا رکھیں مزید سختی کی تو یہ ٹھیک نہیں ہو گا ،انہوں نے وزیراعظم کے دورہ چین سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے دورہ چین کے دوران 4 چیزوں پر بات کی، دورے کے دوران سی پیک میں حائل رکاوٹوں سے متعلق بات چیت کی گئی، ہم نے اس کے علاوہ زراعت سے متعلق بات چیت کی گئی، ہم نے بات کی کہ زرعی پیداوار کے ذریعے ہماری مدد کی جائے، اس کے علاوہ آئی ٹی کے شعبے میں تعاون کے سلسے میں بھی بات چیت کی گئی، اس کے علاوہ ہم نے باہمی تجارت سے متعلق بھی اہم تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دورہ چین کے دوران وزیراعظم سے چینی صدر وزیراعظم سے ملے، اس کے ساتھ ساتھ چین کی 22 بڑی کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور اربوں ڈالر کے منصوبوں پر بات چیت ہوئی۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button