تازہ ترین

جماعت اسلامی پانچ سال تک صوبے میں اقتدار میں شریک تھی اس وقت عمران خان سے اچھا کوٸی لیڈر نہیں تھا۔

چترال ( آواز چترال )تحریک انصاف کی خیرات میں دی ہوٸی سینٹ سیٹ کی مراعات کے مزے لیتے ہوۓ تحریک انصاف پر تنقید کے نشتر چلانا احسان فراموشی کی بد ترین مثال ہے ۔جے۔یو۔اٸی۔نے اتحاد کے حوالے سے گھاس نہں ڈالی تو غصہ تحریک انصاف پر نکالا جا رہا ہے۔پاکستان سے جس سیاسی جماعت خاتمہ قریب اۓ اسے چترال سے الوداعی اکلوتی سیٹ ملتی ھے ۔مشرف لیگ کے بعد جماعت اسلامی کا رسم قل بھی چترال میں ہو گا۔ان خیالات کا اظہار پی۔ثی۔اٸی ۔چترال کے سینیر رہنما اور قومی اسمبلی کے سابق امیدوار عبداللطیف نے جماعت اسلامی کے صوباٸی امیر مشتاق احمد کی چترال میں منعقدہ پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوۓ کیا۔انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پانچ سال تک صوبے میں اقتدار میں شریک تھی اس وقت تحریک انصاف سے اچھی جماعت تھی اور نہ ہی عمران خان سے اچھا کوٸی لیڈر تھا۔خود موصوف کی پارٹی کے سابق صوباٸی وزیر زکوہ وعشر کا بیان ریکارڈ پر ہے جس مں وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ جتنی اسلاماٸزیشن تحریک انصاف کے دور میں ہو ٸی ایم۔ایم۔اے ۔کے دور میں نہیں ہوٸی تھی۔لیکن جب سے جماعت اسلامی کو تحریک انصاف نے اقتدار کے ایوانوں سے باہرپھینکا ہے تب سے جماعت اسلامی کو تحریک انصاف اور عمران خان میں براٸیاں ہی براٸیاں نظر أتی ہیں مولانا فضل الرحمان نے جماعت اسلامی کا جو حشر کیا ہے اسکی وجہ سے جماعت اسلامی قیادت کا سٹیا جانا قابل فہم ہے لیکن اس کا غصہ تحریک انصاف پر نکالنا سمجھ سےبالا تر ہے جماعت اسلامی کی پوری قیادت اس امید سے چترال میں ڈیرے ڈالے ہوۓ ہیں کہ شاید اس مرتبہ بھی جنت کے ٹکٹوں کا وعدہ کرکے ان سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاٸینگے لیکن ان کو اس بات کا ادراک نہیں کہ ہر تحلیل ہوتی ہوٸی سیاسی جماعت کا رسم قل چترال میں ادا کی جاتی ہے اور أخری رسومات میں اکلوتی سیٹ اسقاط کے طور پر دی جاتی ہے جو 2013 کے انتخابات میں دیا جا چکا ہے چترال اور پاکستان کا مستقبل تحریک انصاف سے وابسطہ ہے اور 2022 /2023 کے انتخابات میں چترال سے بھی پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح جماعت اسلامی اور ان کے سیاسی کزن پی ڈی ایم کا خاتمہ ہوگا انشاء اللہ

Facebook Comments

متعلقہ مواد

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button