تازہ ترینشعروشاعری

لیجنڈری گلو کارہ لتا منگیشکر چل بسیں

نئی دہلی ( آواز چترال )  بھارت کی معروف گلوکارہ لتا منگیشکر مختصر علالت کے بعد92 برس کی عمر میں چل بسیں۔ تفصیلات کے مطابق لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کو کورونا ہونے پر9جنوری کو اسپتال میں داخل کروایا یا تھا۔ وہ ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ گذشتہ روز حالت بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ جاںبر نہیں ہوسکیں اور 92 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ خیال رہے سال 2019ء میں بھی لتا منگیشکر ایک ماہ تک سانس میں تکلیف کے باعث ہسپتال میں زیر علاج رہی تھیں، ابھی بھی ڈاکٹرز نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ ضعیف العمری کی وجہ سے انہیں کئی دن تک اسپتال میں رکھا جا سکتا ہے۔ لتا منگیشکر کو بھارت کی ہر دور کی مقبول گلوکارہ مانا جاتا ہے، وہ پاکستان کے علاوہ دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی یکساں مقبول رہیں۔ بھارت کی بلبل کلانے والی گلوکارہ لتا منگیشکر 1929ء میں پیدا ہوئیں۔ ریاست مدھیا پردیش کے شہر اندور میں 28 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والی لتا منگیشکر اپنے 5 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ لتا منگیشکر کو لتا جی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ انہوں نے مختلف زبانوں میں 50 ہزار سے زائد گیت گائے۔ انہوں نے اپنا پہلا گانا 13 سال کی عمر میں 1942ء میں ریکارڈ کروایا۔ لتا جی نے محمد رفیع،مکیش، کشور،محمد عزیزکے ساتھ یاد گار گانے ریکارڈ کروائے۔ انہوں نے ادت نارائن، کمار سانواور سونو نگم کے ساتھ بھی کبھی نہ بھلائے جانے والے گانوں کو اپنی آواز دی۔ لتا منگیشکر نے ایک وقت میں دنیا میں سب سے زیادہ گانے گانے کا اعزاز اپنے پاس رکھا۔ لتا جی کو بھارت کا اعلی ترین اعزاز بھارت رتنا بھی ملا۔ وہ بھارت کی 15 شخصیات میں شامل ہیں جنھیں بھارت رتنا ملا۔ لتا نے 70 کی دہائی میں ہی فلم فیئر ایوارڈز نوجوانوں کیلئے چھوڑ دیا تھا۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button