تازہ ترین

چترال سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے طیارے کی ایبٹ آباد کے قریب حادثے کا پانچواں برسی منانے کے تقریبات منعقد

چترال (نمائندہآوازچترال  ) 7دسمبر 2016ء کو چترال سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے طیارے کی ایبٹ آباد کے قریب حادثے کا پانچواں برسی منانے کے سلسلے میں منگل کے دن چترال میں متعدد تقریبات منعقد ہوئے جن میں قرآن خوانی، یاد گار شہدا ء پر پھول چڑہانے اور سلامی دینے کے ساتھ فاتحہ خوانی کا پروگرام شامل تھے جبکہ شہداء کے آبائی دیہات میں بھی قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ چترال بونی روڈ پر واقع شہیدا سامہ شہید پارک میں واقع یادگار شہداء پر منعقدہ تقریب میں ڈپٹی کمشنر لویر چترال حسن عابد نے چترال

 

لیویز اور پولیس کے جوانوں کی چاق و چوبند دستے کی سلامی لی اور یاد گار پر پھول چڑہائے جس میں شہداء کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں شہداء کی ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ چترال پریس کلب میں پاکستان پیپلز پارٹی اور سلمان شہید کی فیملی نے مشترکہ طور پر تقریب کا اہتمام کیا جس میں چترال کے معروف قانون دان عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ، سلمان شہید کے بھائی ڈاکٹر سعد ملوک اور شادمان زین، سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر، شہزادہ فرہاد عزیز شہید کے بھائی شہزادہ فہام عزیز پی پی پی کے رہنما نظار ولی شاہ اور اسامہ شہید کیریر اکیڈیمی کے ڈائرکٹر فداء الرحمن نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیاکہ پہلے چار May be an image of 9 people, people standing and outdoors

سال تک تو حکومت نے حادثے کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے سے کتراتی رہی لیکن ہائی کورٹ کے حکم پر ایک سال قبل حقائق کو سامنے تو لائے گئے مگر ذمہ داروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے شہداء کے لواحقین کے دلوں پر جو گزر رہی ہے، اس کا اندازہ صرف وہی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ رپورٹ کی روشنی میں May be an image of 10 people, people standing and outdoors

یہ حقیقت اشکار ا ہوگئی ہے کہ پی کے 661کا طیارہ تکنیکی طور پر فٹ نہ ہونے کے باوجود اسے اڑایا گیا جس کے نتیجے میں چترال کی تاریخ میں سب سے بڑا سانحہ پیش آیا جس میں 47افراد لقمہ اجل بن گئے۔ مقررین نے کہاکہ پی آئی اے نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس لئے شہداء کے لواحقین کو نارمل معاوضہ کی بجائے دیت بھی دیا جائے جوکہ قتل عمد میں دیا جاتا ہے۔ درین اثناء سانحے کے بعد پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی اس دن چترال میں سوگ کا سماں دیکھا گیا جہاں ہرکوئی اس اندوہناک ہوائی حادثے کا ذکر کرکے ابدیدہ ہورہے تھے۔

May be an image of 9 people, people standing and outdoors

May be an image of 11 people, people standing and indoor

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button