تازہ ترین

ووٹ خریدنے کی ویڈیوز منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئیں

لاہور ( آوازچترال ) لاہور کے حلقہ این اے 133 کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران ووٹ خریدنے کے لیے پیسے بانٹنے کی مبینہ ویڈیو سے متعلق سینئیر صحافی و تجزیہ کار رانا عظیم نے کہا کہ یہ ویڈیو ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے رانا عظیم نے کہا کہ یہ تین ویڈیوز ہیں اور تینوں ویڈیوز میں مسلم لیگ ن کے دفاتر اور مسلم لیگ ن کے لوگوں کو پیسے دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے صحیح یا غلط کا جواب مسلم لیگ ن نے دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ویڈیو پیپلزپارٹی کی بھی دکھائی گئی ہے اور اس میں بھی پیسے دئے جا رہے ہیں۔ حلقے کی پوزیشن یہ ہے کہ این اے 133 میں مسلم لیگ واضح طور پر جیت رہی ہے تو پھر اسے ڈر کس چیز کا ہے؟ اُن کا کہناتھا کہ مسلم لیگ ن کا 95 ہزار ووٹ تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی نے پانچ ہزار ووٹ لیے، یہ ووٹ خریدنے کا طریقہ نہیں ہے۔ رانا عظیم نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک دفتر بھی ایسا نہیں ہے جہاں اس طریقے سے فلیکسز لگی ہوں، کسی جلسے میں انہوں نے ماسک نہیں پہنا لیکن پیسے دینے والوں نے ماسک پہنے ہوئے ہیں۔ رانا عظیم نے کہا کہ یہ ویڈیوز جس نے بھی بنائی ہیں ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت بنائی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے لوگوں کو ایک ایک یونین کونسل سونپ دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر پہلے جیسے ووٹ نہ ڈالے گئے تو پوچھ گچھ کی جائے گی۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ویڈیو باگڑیاں کی ہے ، اس ویڈیو پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔ یا د رہے کہ لاہور کے حلقہ این اے 133 کے ضمنی الیکشن کی مہم کے دوران مبینہ طور پر پیسے بانٹنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ 28 نومبر کو الیکشن کمیشن نے لاہور کے حلقہ این اے 133 میں ضمنی الیکشن سے قبل مبینہ طور پر ووٹ خریدنے سے متعلق ویڈیو کا نوٹس لیا اور ریٹرننگ افسر نے ڈپٹی کمشنر لاہور اور آئی جی پنجاب پولیس کو مراسلہ بھیج کر 30 نومبر تک معلومات طلب کی تھیں، جبکہ ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے این اے133 کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران ووٹ خریدنے کیلئے پیسے بانٹنے کی مبینہ ویڈیو پر الیکنش کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتخابی مہم کے دوران پیسے بانٹنے کا الزام سچ ثابت ہوا تو الیکشن ملتوی بھی ہوسکتا ہے، لیکن اگر معاملہ پولنگ تک زیرالتوا رہا اور الیکشن ہونے کے بعد الزام ثابت ہوا تو امیدوار کو نااہل قرار بھی دیا جاجاسکتا ہے۔ ووٹ خریدنے کی مبینہ ویڈیو کی انکوائری رپورٹ کل جمع کروائی جائے گی، متعلقہ محکموں کی رپورٹس میں ووٹوں کی خرید وفروخت ثابت ہوئی تو معاملہ الیکشن کمشن اسلام آباد کو بھیجا جائےگا۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button