72

بیک گراؤنڈ…..جاوید چوہدری

جسٹس رانا محمد شمیم 31 اگست 2015 سے 30اگست 2018تک تین سال گلگت بلتستان کی ایپلیٹ کورٹ کے چیف جج رہے‘ یہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے ورکر تھے‘ پارٹی کے سندھ لائرز ونگ کے نائب صدر بھی رہے اور میاں نواز شریف کے وکیل بھی‘ یہ بطور جج براہ راست وزیراعظم آفس کو جواب دہ تھے‘ 30 اگست 2018 کو ریٹائر ہوئے اور لاء کی پریکٹس شروع کر دی‘ میاں نواز شریف سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا رابطہ تھا یہ نومبر کے شروع میں نیویارک گئے، وہاں سے انھوں نے لندن میں شریف فیملی کی ایک اہم شخصیت سے رابطہ کیا اور بتایا ’’میرے ضمیر پر ایک بوجھ ہے اور میں یہ بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں‘‘ ان کا کہنا تھا ’’میری مرحومہ اہلیہ نے انتقال سے قبل مجھے کہا تھا‘ آپ کو یہ سچ شریف فیملی اور پوری قوم کو بتانا چاہیے‘‘ ان کا کہنا تھا ’’میں نیویارک سے پاکستان جاتے وقت لندن رکوں گااور میاں نواز شریف سے ملاقات کرنا چاہتا

ہوں‘‘ اس شخصیت نے میاں صاحب سے بات کی اور وہ رانا شمیم سے ملاقات کے لیے راضی ہو گئے‘ رانا شمیم 8 نومبر کو لندن پہنچے۔ ان کی حسین نواز سے دو ملاقاتیں ہوئیںاور انھوں نے حلفاً اقرار کیا ’’مجھے اگر پھانسی بھی دے دی جائے تو بھی میں اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گا‘‘ میاں نواز شریف سے بھی ان کی ملاقات ہوئی‘ رانا شمیم کو 10 نومبر کو سینٹرل لندن میں نوٹری پبلک ’’چارلس ڈروسٹن گیتھری‘‘ (Charles Drostan Guthrie) کے دفتر لے جایا گیا اور انھوں نے حلف اٹھا کر اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا‘ کمپنی نے اس پر نوٹری پبلک کی مہر لگا دی‘ بیان کو اب کسی بھی عدالت میں شہادت کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا۔ رانا شمیم نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ’’جولائی 2018 کے وسط میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار اپنے خاندان کے 27 افراد کے ساتھ چھٹیاں منانے گلگت آئے‘ میں ان کا میزبان تھا‘ شام کی چائے کے وقت جسٹس ثاقب نثار اپنی بیگم کے ساتھ لان میں بیٹھے تھے‘ میں اور میری بیگم بھی وہاں موجود تھے۔ چیف جسٹس اس وقت بہت ڈسٹرب تھے اور وہ بار بار فون کر رہے تھے‘ رجسٹرار سے ان کا رابطہ ہوا

اور انھوں نے اس سے کہا‘ آپ فوری طور پراسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کے گھر جائیں اور انھیں میرا پیغام پہنچائیں میاں نواز شریف اور مریم نواز کو کسی بھی قیمت پر الیکشنز سے قبل ضمانت نہیں ملنی چاہیے‘‘ رانا شمیم نے دعویٰ کیا ’’جسٹس ثاقب نثار کا بعدازاں ان سے بھی رابطہ ہو گیا اور چیف جسٹس نے انھیں یہ حکم براہ راست بھی دیا اور یہ اس کے بعد مطمئن بھی ہو گئے۔ میں نے ان کے اس حکم پر اعتراض کیا تو چیف جسٹس نے مجھ سے کہا ’’ آپ یہ سمجھیں آپ نے یہ گفتگو سنی ہی نہیں اور دوسرا گلگت بلتستان اور پنجاب کی کیمسٹری میں بہت فرق ہے‘‘ رانا شمیم یہ بیان حلفی دے کر پاکستان واپس آ گئے‘ شریف فیملی نے 14 نومبر کو یہ حلف نامہ ڈیلی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی کو دے دیا اور عباسی صاحب نے15نومبرکو خبر شائع کر دی جس کے بعد ملک میں تہلکہ مچ گیا۔ یہ حلف نامہ حیران کن بھی ہے اور عدلیہ کی ساکھ کے لیے خطرناک بھی تاہم اس میں چند تشنہ سوالات بھی موجود ہیں اور یہ سوالات مستقبل میں بار بار اٹھائے جائیں گے مثلاً رانا شمیم نے یہ حلف نامہ پاکستان کی بجائے لندن میں کیوں دیا‘ میاں نواز شریف کے کاغذات اور رانا شمیم کے حلف نامے کا نوٹری پبلک ایک کیوں ہے؟ جولائی 2018میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا بینچ کیس سن رہا

تھا‘ جس جج کو فون کیا‘وہ تو بینچ کا حصہ ہی نہیں تھے پھر چیف جسٹس نے انھیں یہ حکم کیوں دیا اور رانا شمیم نے سوا تین سال بعد جسٹس ثاقب نثار کو ہدف کیوں بنایا وغیرہ وغیرہ؟ میں نے ان سوالوں کے جواب کے لیے پہلے جسٹس ثاقب نثار اور پھر لندن میں نواز شریف فیملی کے اہم فرد سے رابطہ کیا‘ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا ’’رانا شمیم حکومت سے اپنی مدت ملازمت میں ایکسٹینشن لینا چاہتے تھے‘ میں نے ان کے چند اہم فیصلے ری ورس کر دیے‘ اس وجہ سے انھیں ایکسٹینشن نہ مل سکی اور یہ اب اس کا بدلہ لے رہے ہیں‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا ’’رانا شمیم صرف مجھے بدنام نہیں کر رہے بلکہ یہ ان جج کو بھی متنازع بنا رہے ہیں جن کی عدالت میں 17 نومبر کو مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلوںکی سماعت ہے۔ یہ ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’آپ کے اس جج صاحب کے ساتھ کتنے پرانے تعلقات ہیں‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’ہماری بہت پرانی شناسائی ہے‘ یہ بطوروکیل میرے ساتھ کام بھی کرتے رہے لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں میں انھیں فون کروں گا اور یہ میرا کوئی غیرقانونی حکم مانیں گے‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ رانا شمیم کے خلاف عدالت میں پیش ہوں گے یا ان کے الزامات کا جواب دیں گے‘‘ ان کا فوری جواب تھا ’’بالکل نہیں‘ میں اس گند میں نہیں پڑوں

گا‘‘ میں نے اس کے بعد نواز شریف فیملی کے اہم فرد سے رابطہ کیا اور پوچھا’’ آپ سے متعلقہ تمام ڈاکومنٹس ایک ہی نوٹری پبلک سے کیوں تصدیق ہوتے ہیں؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’سینٹرل لندن میں صرف ایک ہی نوٹری پبلک ہے۔ لہٰذا جوبھی شخص عدالتی کاغذات کی تصدیق کرائے گا وہ اسی کے پاس جائے گا‘ نیب نے حسین نواز کے کاغذات بھی اسی نوٹری پبلک سے تصدیق کرائے تھے لہٰذا صرف نواز شریف فیملی نہیں بلکہ نیب کے کاغذات کی تصدیق بھی اسی نوٹری پبلک سے ہوتی ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا رانا شمیم کو ن لیگ کے لوگ نوٹری پبلک کے آفس لے کر گئے تھے‘‘ انھوں نے تصدیق کی اور کہا ’’نواز شریف کے دوست ان کے ساتھ تھے اور رانا شمیم نے حلف دیا ‘مجھے اگر پھانسی بھی لگا دی جائے تو بھی میں اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹوں گا‘‘ میں نے پوچھا ’’وہ جج صاحب جولائی 2018 میں بینچ کا حصہ نہیں تھے۔ جسٹس ثاقب نثار پھر انھیں فون کر کے ہدایت کیوں دیں گے؟‘‘ ان کا جواب تھا یونیورسٹی آف لندن نے 1997میں شریف سٹی ایجوکیشنل کمپلیکس میں قانون کا ایکسٹرنل پروگرام شروع کیا تھا‘ یہ جج صاحب اس وقت وکیل تھے اور یہ شریف سٹی ایجوکیشنل کمپلیکس میں پڑھاتے تھے‘ آج کے مشیر احتساب شہزاد اکبر بھی ان کے شاگرد تھے اورٹی وی اینکر منیب فاروق بھی‘یہ اس زمانے میں بھی ثاقب نثار کے ساتھ کام کرتے تھے اور ان کے ان سے انتہائی قریبی تعلقات تھے‘ میں نے ان سے پھر پوچھا ’’یہ تعلقات کے باوجود بینچ کا حصہ نہیں تھے۔ لہٰذا جسٹس ثاقب نثار انھیں کیوں فون کریں گے‘‘ اس شخص نے دعویٰ کیا ’’یہ کیس جوں ہی آگے چلے گا یہ لنک بھی ثابت ہو جائے گا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ کے پاس ثبوت موجود ہیں؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’ٹھوس اور بہت

زیادہ‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز اپنے کارڈز احتیاط کے ساتھ کھیل رہے ہیں‘ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں اور یہ وقت پر اپنے ثبوت سامنے رکھتے چلے جائیں گے‘‘ میں نے ان سے آخری سوال پوچھا ’’رانا شمیم نے اپنا راز تین سال اورچارماہ کیوں چھپائے رکھا‘ یہ 17 نومبر 2021 کے اس دن کا کیوں انتظار کر رہے تھے جب عدالت میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کا کیس لگنا تھا‘‘ ان کا جواب تھا ’’رانا شمیم نے یہ بات ہمیں ٹیلی فون پر ڈیڑھ سال پہلے بتائی تھی۔ ہم چاہتے تھے یہ ہمارے سامنے بیٹھ کر بات کریں تاکہ ہم ان کی بات کو باڈی لینگوئج سے میچ کر سکیں لیکن کورونا کی وجہ سے یہ لندن نہ آ سکے‘ دوسرا ہم نے بھی رانا شمیم سے یہ سوال کیا تھا اور ان کا جواب تھا‘ میری اہلیہ اس واقعے کی گواہ تھی‘ اسے بہت قلق تھا لہٰذا اس نے انتقال سے قبل مجھے پابند کیا تھا میں یہ واقعہ نواز شریف کو بھی سناؤں گا اور اگر مجھے کسی عدالتی فورم پر گواہی بھی دینی پڑے تو بھی دوں لہٰذا میں اب آگیا اور اس سچ کے لیے ہر قسم کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’رانا شمیم چیف جج بننے سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے عہدیدار تھے لہٰذا پھر آج ان کے سچ کو سچ کیوں مان لیا جائے؟‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی میاں نواز شریف کے ساتھی رہے ہیں۔ ثاقب نثار ن لیگ کے وزیر قانون خالد انور کے چیمبر میں کام کرتے رہے تھے‘ خالد انور نے انھیں 1997میں وفاقی سیکریٹری قانون بنایا اور انھیں میاں نواز شریف کے ذریعے 1998میں ہائی کورٹ کا جج بنوایا جب کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی فائل ان کے سسر جسٹس نسیم حسن شاہ میاں نواز شریف کے پاس لائے تھے‘ وزیراعظم نہیں مان رہے تھے لیکن جسٹس نسیم حسن شاہ نے اپنے

داماد کے لیے بہت زور لگایا اور یوں یہ بھی 1998 میں جج بن گئے اور ہمیں سب سے زیادہ سیاسی نقصان ان دونوں ججوں کے ہاتھوں پہنچا لہٰذا شریف فیملی سے دوستانہ اِدھر یا اُدھر کسی جگہ میٹر نہیں کرتا۔‘‘ یہ حقائق کہاں تک سچ ہیں؟ یہ فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن ایک بات طے ہے گل ودھ گئی ہے اور یہ اب روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی رہے گی اور اس کی لپیٹ میں کون کون سا شخص اور ادارہ آئے گا یہ سوچ کر بھی نیند اڑ جاتی ہے۔

Facebook Comments