144

ملاکنڈ ڈویژن کو دو ڈویژن میں تقسیم کرنے کا مطالبہ.. 86لاکھ آبادی پر مشتمل ڈویژن اور چترال صرف ایک ضلع کا رقبہ باقی پورے صوبے کے رقبے کے برابر ہے

پشاور ( آوازچترال نیوز) نائب امیر جماعت اسلامی وممبر صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا عنایت اللہ خان نے ملاکنڈ ڈویژن کو دو ڈویژن میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 86لاکھ آبادی پر مشتمل ڈویژن اور چترال صرف ایک ضلع کا رقبہ باقی پورے صوبے کے رقبے کے برابر ہے۔ حکومت نے اسمبلی فلور پر دوسال پہلے ملاکنڈ ڈویژن کو دو ڈویژن میں تقسیم کرنے اور دیر بالا، دیر پائیں، چترال اور باجوڑ پر مشتمل دوسرا ڈویژن بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کو ابھی تک پورا نہیں کیاگیا۔وہ اسمبلی فلور پر خطاب کرر ہے تھے۔ عنایت اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن صوبے کا ایک بڑا ڈویژن ہے اگر جنوبی اضلاع کو تین ڈویژن میں تقیسم کیاجاسکتا ہے تو ملاکنڈ ڈویژن کو کیوں تقسیم نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ملاکنڈ ڈویژن کو دو ڈویژن میں تقسیم کرنے سے نہ صرف حکومت کے لیے انتظامی آسانی ہوگی بلکہ عوام کو بھی آسان اور بہترین سہولیات میسر ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ دو سال پہلے اس وقت کے وزیر قانون نے ہم سے وعدہ کیاتھا کہ ایک ہفتے کے اندر ملاکنڈ کودو ڈویژن میں تقسیم کرنے کے لیے پیش کریں گے اور کابینہ سے منظوری لیں گے لیکن دوسال ہونے کو ہے ابھی تک وعدہ پورا نہیں کیاگیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ملاکنڈڈویژن کو دو ڈویژن میں تقسیم کرنے کی منظوری دی جائے۔

Facebook Comments