201

چترال، دیر اور باجوڑ پر مشتمل ایک علیحدہ ڈیویژن انتظامی لحاظ سے وقت کی اہم ضرورت ہے

اسلام آباد(  آوازچترال) چترال، دیر اور باجوڑ پر مشتمل ایک علیحدہ ڈیویژن نہ صرف انتظامی لحاظ سے وقت کی اہم ضرورت ہے بلکہ ان پانچ اضلاع پر مشتمل نئے ڈیویژن بننے سے ان اضلاع میں ترقی کی بھی راہیں کھلیں گی۔ اس سوچ اور تصور کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے اسلام آباد میں چترال لوئر، چترال اپر، دیر لوئر ،دیر اپر اور باجوڑ کے May be an image of 9 people, people standing and indoor

سیاسی و سماجی نمائندے شریک۔ مذکورہ اضلاع کے سیاسی و سماجی نمائندوں کا اجلاس ہوا جس کا اہتمام امریکہ میں مقیم دیر سے تعلق رکھنے والا معروف کاروباری شخصیت رحیم شاہ اخونخیل نے کیا تھا جو دیر آور سیز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللہ،ایم این اے صبعت اللہ، سینیٹر فلک ناز چترالی، ایم این اے محمد بشیر خان، ایم این اے مولانا عبد الاکبر چترالی، ایم این اے گل ظفر خان، شہزادہ افتخار الدین، سید مختار علی شاہ ایڈوکیٹ اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔ میزبان رحیم شاہ اخونخیل نے ممبران قومی May be an image of 3 people and indoor

اسمبلی و سینیٹ کے سامنے اپنے فورم کے مطالبات اور تجاویز پیش کی اور ممبران سے استدعا کی کہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے دونوں ایوانوں میں آواز بلند کی جائیں۔اور ایک علیحدہ ڈیویژن کی تشکیل کے حوالے سے پارٹی وابستگی و سیاست سے بالاتر ہوکر ہر فورمز پر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں شریک ممبران نے May be an image of 1 person, standing and indoor

ان کے تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھرپور تائید و حمایت کی یقین دہانی کرائیں۔اور ان کے کاوش و مثبت اقدامات کو سراہا۔ اور دیر چترال باجوڑ کے مسائل کے حل کےلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔ مذید برآں اس حوالے سے 2 نومبر کو ایک مشترکہ اجلاس رکھا گیا ہے جس میں مذکورہ اضلاع کے تمام سینیٹرز اور ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو اجلاس کی دعوت دی گئی ہیں۔

May be an image of 3 people, people sitting and people standing

Facebook Comments