82

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں سٹیزن فسیلیٹیشن سنٹرز کے قیام کی ہدایت

پشاور (   آوازچترال) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کے عوام کو تمام شہری خدمات کی فراہمی کو ایک ہی چھت کے نیچے یقینی بنانے کے لئے متعلقہ حکام کو صوبے کے مختلف اضلاع میں سٹیزن فسیلیٹیشن سنٹرز قائم کرنے کے منصوبے پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگلے تین ماہ میں صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک ماڈل سٹیزن فسیلیٹیشن سنٹرکے قیام کو یقینی بنایا جائے جبکہ اگلے چھ ماہ کے دوران دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سٹیزن فسیلیٹیشن سنٹرز قائم کئے جائیں۔  انہوں نے مزید ہدایت کی کہ دفتری امور نمٹانے کے عمل میں تیزی لانے، سرکاری محکموں کی استعداد کار میں اضافہ کرنے اور کاغذ کے استعمال کو کم کرنے کے لئے آئندہ ایک ماہ میں ای سمری سسٹم کااجراء کیا جائے اور اس سلسلے میں معاملہ حتمی منظوری کے لئے کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے۔  یہ ہدایات انہوں نے پیر کے روز ای گورننس سٹریٹیجی پر عملدرآمد کے سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔  صوبائی کابینہ اراکین عاطف خان، عارف احمد زئی، کامران بنگش کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سید ظفر علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔  اجلاس میں ای سمری سسٹم، سٹیزن فسیلیٹیشن سنٹر اور پیپر لیس گورننس منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔  اجلاس کو سٹیزن فسیلیٹیشن سنٹرز کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان سنٹرز میں شہریوں کو 9 سروس ڈیلیوری محکموں کے تحت 38 خدمات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کی جائیں گی جن میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کا اجراء، قومی شناختی کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹ، فارم ب، ڈرائیونگ لائسنس، اسلحہ لائسنس، زمینوں کے انتقالات اور دیگر شامل ہوں گی۔  اجلاس کو بتایاگیا کہ یہ تمام خدمات مرحلہ وار فراہم کی جائیں گی جبکہ ابتدائی مرحلے میں ترجیحی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔  وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ابتدائی مرحلے میں فراہم کی جانے والی خدمات کی نشاندہی جلد مکمل کرکے منظوری کے لئے پیش کیا جائے۔  اجلاس کو پیپر لیس گورننس روڈ میپ کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ اگلے سال جون تک پیپر لس گورننس سسٹم کا اجراء کیا جائے گا اس پروگرام پر عملدرآمد کے لئے 5000 سرکاری ملازمین کو ٹریننگ دی جائے گی۔  وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو جون 2022 سے پہلے پیپر لیس گورننس سسٹم کا اجراء یقینی بنانے کی ہدایت کی جبکہ اس سسٹم پر عملدرآمد کے سلسلے میں تمام محکموں کے درمیان کوآرڈنیشن کے لئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا

Facebook Comments