242

بین الاقوامی اہمیت کی حامل چترال گول نیشنل پارک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ڈویژنل فارسٹ افیسر کے خلاف کاروائی کی جائے

چترال ( نمائندہ آوازچترال) چترال گول نیشنل پارک سے استفادہ کرنے والے گیارہ دیہات کی تنظیم پارک ایسوسی ایشن کے چیرمین سلیم الدین، سیکرٹری حسین احمد اور کمیونٹی کے دیگر رہنماؤں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی اہمیت کی حامل اس نیشنل پارک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ڈویژنل فارسٹ افیسر کے خلاف فوری طور پر کاروائی کی جائے جس نے گزشتہ دو سالوں میں پارک کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے جبکہ مارخوروں کی آبادی میں

زبردست کمی آئی ہے اور حال ہی میں پارک کے کور زون میں آتشزدگی بھی ان کی نااہلی اور غفلت کا شاخسانہ ہے۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نیشنل پارک کے قیام سے پہلے چترال ٹاؤن کے گیارہ دیہات اس جنگل سے براہ راست استفادہ حاصل کرتے تھے جن کی 1984ء میں نیشنل پارک بننے پر انہوں نے قربانی دی لیکن پارک کا موجودہ ڈی ایف او معاہدے کو مکمل طور پر پس پشت ڈال کر کمیونٹی کو پارک منیجمنٹ سے باہر کردیا ہے جس کے نتیجے میں پارک انتہائی انحطاط کا شکار ہے اور مارخوروں کی تعداد تین ہزار سے کم ہوکر صرف 800رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل پارک کے انتظام وانصرام میں مقامی کمیونٹی کو قانونی حیثیت حاصل ہے لیکن ڈی ایف او اپنی من مانیوں کو جاری رکھنے کے لئے کمیونٹی کے نمائندوں کو

یکسر مستر د کردیا ہے اور پارک کے کور زون میں ڈھول بجانے اور محفل سجانے سمیت ایسی منفی سرگرمیاں کروارہے ہیں جن سے کنزرویشن کو نقصان لاحق ہورہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ نیشنل پارک میں موجود 60انچ سے ذیادہ سینگ رکھنے والے دو تاریخی مارخور غائب ہوچکے ہیں اور پارک کے معروف مقام موڑین گول میں اب کوئی مارخور موجود نہیں جوکہ غیر معمولی حالات کا عکاس ہے۔ پارک ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہاکہ گزشتہ ہفتے نیشنل پارک کے زاربت کے مقا م پر آتشزدگی کے بعد سات دن گزر گئے لیکن ڈی ایف او اب تک متاثر ہ مقام کا وزٹ کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کیا ہے اور نہ ہی نامعلوم ملزموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے اور نہ ہی انکوائری شروع کی ہے کیونکہ ڈی ایف او جانتا ہے کہ ان کی غفلت کی وجہ سے آگ لگ جانے کی وجہ سے ذمہ داری خود ان پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ تقریباً ایک ماہ پہلے ہی پارک ایسوسی ایشن کے بورڈ نے ایک قرارداد کے ذریعے نیشنل پارک میں اکتوبر کے ماہ سے پہلے جلغوزے نکالنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھالیکن ڈی ایف او نے اس پر عمل نہیں کیا جس کے نتیجے میں جلغوزے جمع کرنے والوں کی لاپروائی سے آگ لگ گئی۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل پارک کی حالت مخدوش ہونے کی ایک وجہ کمیونٹی واچروں کو تنخواہ کی بندش ہے کیونکہ پارک کے فنڈ کو اسلام آباد میں کلائمیٹ چینج منسٹری نے گزشتہ چھ سالوں سے روکے رکھا ہے جہاں سے کمیونٹی واچروں کو تنخواہ کی ادائیگی کے علاوہ کمیونٹی کی دیہی ترقی کے چھوٹے موٹے کام بھی اس فنڈ سے کیا جانا معاہدے میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے خیبر بنک برانچ میں جمع پارک ایسوسی ایشن کے فکسڈ ڈپازٹ کے تین کروڑ روپے کے منافع کو اس کی میعاد گزشتہ سال پوری ہونے پر ریلیز کئے جائیں تاکہ کمیونٹی واچروں کو تنخواہ دی جاسکے۔کمیونٹی کے رہنماؤں نے ڈی ایف او کے خلاف انکوائری کے ساتھ ساتھ مارخوروں کی آبادی کی سروے کسی تھرڈ پارٹی کرانے کابھی مطالبہ کیا جبکہ چترال میں موجود ہونے کے باوجود مقام آتشزدگی کا دورہ نہ کرنے پر کنزرویٹر وائلڈ لائف نارتھ اور خاموشی برتنے پر چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف خیبر پختونخوا کے خلاف بھی کاروائی کا مطالبہ کیا۔ نیشنل پارک میں آگ پر قابو پانے میں جانفشانی سے کام کرنے پر مغلاندہ، ڈنگریکاندہ اور ٹھینگشن اور دیگر دیہات کے جوانوں اور ریسکیو 1122کاخصوصی شکریہ ادا کیا۔

Facebook Comments