تازہ ترین

دنیا عمران کی مرید بنے، تین سال میں مثبت تبدیلیاں،حکومتی کارکردگی شور شرابے سے نہیں روکی جاسکتی، صدر علوی

اسلام آباد( آوازچترال)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک نئی اور مثبت سمت کی جانب گامزن ہے‘ گزشتہ تین سالوں میں ہمارے ملک اور قوم میں بہت سی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ کوروناوبا کے باوجود حکومت کی موثر پالیسیوں اور حکمت عملی کے باعث پاکستان کی معیشت مستحکم رہی‘ تر سیلات‘برآمدات ، اسٹاک ایکس چینج میں نمایاں بہتری سمیت مثبت اقتصادی اشاریے حکومتی معاشی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں‘ حکومت کی کارکردگی اور کامیابی کو شورشرابے سے نہیں روکا جاسکتا ‘ اپوزیشن میری بات سنے تواسے بھی عقل آئے ‘ بھارت کے انتہاپسند ہندوتوا فاشسٹ نظریہ سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہے۔ بھارت کشمیر میں ظلم کا بازار بند کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ نبھائے‘ بھارت پاک چین تعلقات میں دراڑیں پیدا کرنے میں ناکام ہوگا‘دنیا کو وہ بات لاکھوں انسانی جانیں اور اربوں ڈالر خرچ کرکے سمجھ آئی جو وزیراعظم عمران خان 20 سال سے کہہ رہے تھے‘ دنیا عمران خان کے سیاسی تدبرپر ان کی شاگردی اور مریدی اختیار کرے‘پاکستان میں جمہوریت کے فروغ اور انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سمیت انتخابی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں لہٰذا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو سیاسی فٹبال نہ بنایاجائے‘پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے سب سے پہلے ہمیں فیک نیوز پر قابو پانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ معاشرے میں انتشار پھیلانے کا باعث بن سکتی ہیں‘افغانستان میں پچھلے دنوں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے‘ اب دنیا کو چاہئے کہ وہ اس وقت افغان عوام کو بے یارو مدد گار نہ چھوڑے اور ان کی مدد کرے تاکہ انسانی بحران پیدا نہ ہو۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام اور سیکورٹی اداروں کی قربانیاں کسی صورت رائیگاں نہیں جائیں گی ،دنیا کو ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا بہت بہادری سے مقابلہ کیا۔پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےڈاکٹر عارف علوی نے اپوزیشن کے شور شرابے پرجواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود آپ شور مچائیں مگر حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی، ملک صنعتی انقلاب سے گزر رہاہے جسے شور شرابے سے نہیں روکا جاسکتا۔ہم انشا اللہ ایک چمکتے دمکتے اور ابھرتے ہوئے پاکستان کی منزل کو پا لیں گے۔جب کورونا کےسبب دنیا کی تمام معیشتیں سکڑنے لگیں تو اس وقت پاکستان کی معاشی کارکردگی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر رہی اور پاکستانی معیشت کی شرحِ نمو 3.94 فیصد رہی ۔ سمندر پار سرمایہ کاروں کے پاکستانی معیشت اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد میں تقریبا 60 فیصد کا اضافہ ہوا۔ عوام کا ٹیکس جمع کرانا اور ترسیلات زر بھیجنا حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے میدان میں بڑی تندہی سے کام کر کے سارے اعتراضات کے حل کیلئے قوانین اور طریقہ کار بنالیا ہے اور یہ قوانین لاگو بھی کر دیئے گئے ہیں۔ذہانت کے اعتبار سے پاکستانی قوم اور پاکستانی نوجوان دنیا کی کسی قوم سے کم نہیں۔ مجھے اپنے سائنسدانوں اور آئی ٹی ماہرین پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اپنی ذہنی استعداد کو بروئے کار لا کر عصرِ حاضر کے سائبر ڈیفنس اور سیکورٹی چیلنجز پر احسن طریقے سے قابو پالیں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کرپشن کے ناسور اور ماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سے ہم نہ صرف ترقی سے محروم رہے بلکہ انسانی و سماجی ترقی کے تمام اشاریوں میں بھی دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے۔ ٹیلنٹ کی قدر نہ ہونے اور میرٹ کو فوقیت نہ دینے کی وجہ سے پاکستان کو گورننس کا نقصان ہوا اور برین ڈرین کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے وسائل پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور ہمیں تعلیم ، صحت ، خوراک ، ٹرانسپورٹ ، پانی نکاسی آب اور توانائی جیسی ضروریاتِ زندگی عوام تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بچوں کی پیدائش میں وقفہ لانے ، کنبہ چھوٹا کرنے اور قرآنی تعلیمات کے مطابق ماں کا بچے کو اپنا دودھ پلانے کی روایت عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی بہتر پرورش ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ "یکساں تعلیمی نصاب” کے نفاذ کا مقصد ملک بھر کے بچوں کو مساوی معیارِ تعلیم کو یقینی بنانا ہے اور ایک متحد قوم کی تشکیل کرنی ہے۔حالیہ دنوں میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات سامنے آئے، بحیثیت ریاست ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنا ہمارا قومی فرض ہے۔ان اقدامات کے علاوہ معاشرے کے تمام طبقات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خواتین کا احترام کریں اور پبلک مقامات پر خواتین کا تحفظ یقینی بنائیں تاکہ وہ قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔صدرمملکت کا کہناتھاکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے نہ صرف انتخابات میں شفافیت آئے گی اور نتائج کی بروقت ترسیل ممکن ہوسکے گی بلکہ ووٹر کی رازداری کا بھی خیال رکھا جا سکے گا۔ اس سسٹم کو "ہیک ” نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ نظام انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہے۔ اس میں بیلٹ پیپر بھی ہے۔ اس عمل کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے اور کھلے دل سے اس کی نوک پلک دیکھی جائے اور ٹھیک کی جائے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو پہچاننا چاہئے کہ بھارت کئی سالوں سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث اور تخریب کاروں کا سہولت کار ہے۔ بھارت میں جوہری مواد کی چوری اور مارکیٹ میں خرید و فروخت کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ بھارتی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہیں جس کی وجہ سے عالمی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسے سنگین واقعات کو عالمی برادری اور میڈیا کی جانب سے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button