179

شادی ہالز، تعلیمی ادارے ، ڈائننگ بند، سم بندش کی سفارش

کراچی (  آوازچترال) سندھ میں کورونا کیسزمیں اضافے کے باعث ایک بارپھرشادی ہالز، تعلیمی ادارے سمیت انڈورآؤٹ ڈورڈائننگ بند کردی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت کورونا وائرس سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ایک بار پھرکورونا کے بڑھتے ہوئے اعدادوشمار کے پیش نظربڑے فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں پیرسے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم امتحانات اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے۔  شادی ہال اور دیگر تقریبات پر پابندی عائد ہوگی، ریسٹورنٹس میں انڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ دونوں بند کردی گئیں، صرف ٹیک اووے کی اجازت ہوگی۔ اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ کریانہ، بیکری اور فارمیسی کھلی رہیں گی تاہم شاپنگ مالز، مارکیٹ صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے۔ اجلاس میں درگاہیں بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری اور نجی سیکٹر میں 50 فیصد اسٹاف حاضر ہوگا۔ ان تمام فیصلوں پر پیر سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ حکومت نے صوبے میں کورونا کیسز کی شرح 10 فیصد اور کراچی میں کیسز کی شرح 25 فیصد سےمتجاوز ہونے پر ایک بار پھر پابندیاں لگانے کافیصلہ کیا ہے۔ سندھ کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن سرکاری ملازمین نے کورونا ویکسین نہیں لگوائی ان کی تنخواہیں آئندہ ماہ سے بند کرنے کے لیے اقدامات کئے جائیں گے۔ دوسری جانب سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بھی اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ویکسی نہ لگوانے والے افراد کی موبائل سم بند کرنے کے لیے این سی او سی اور پی ٹی اے کو خط لکھا جائے گا۔

Facebook Comments