50

دھڑکنوں کی زبان…..”کیا واقعی قانون بے بس ہے“..….محمد جاوید حیات

محکمہ پولیس میں ٹریفک کا الگ شعبہ ہے۔پولیس کے جوانوں کے یونیفارم تک الگ ہیں۔ڈرائیور بھائی صرف ان سے ڈرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں قانون ہے اور قانون کی طاقت ہے۔آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ذرائع آمد ورفت کا اژدھام ہے۔نوغ نوغ کی آٹوز سڑکوں پہ دوڑ رہی ہیں۔سارے لو گ ان آٹوز کے مسافر ہیں اور ڈرائیوروں کے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں۔ان کے لئے الگ ٹریفک کے قوانین ہیں ٹریفک پولیس ان کو لاگو کرتی ہے۔ہمارا پیارا ملک اس لحاظ سے بنجر ہے کہ اس کا کوئی شہری اپنے آپ کو ذمہ دار شہری ثابت کرئے اس لئے پولیس کے پاس ایک ”ڈنڈا“ ہوتا تھا۔۔اس کا ایک خوف ہوتا تھا بہت سارے مستنڈے اس سے سدھر جاتے تھے۔حکمرانوں نے پولیس کے ہاتھ سے وہ ”ڈنڈا“ چھین لیا اور استاد سے ”تربیت کا ہاتھ“ بھی چھین لیا تو آہستہ آہستہ یہ معاشرہ ”جنگل“ بنتا جا رہا ہے۔ہم مغر ب کا حوالہ دینے والے درندے بن رہے ہیں لا قانونیت کو اپنا حق سمجھنے لگے ہیں اس لئے کہ قانونیت کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے۔اگر قوم ایسی سدھر جائے کہ اس کو قانون کا احترام کرنے پر مجبور نہ کیا جائے وہ خود قانون کے احترام کو اپنا فرض سمجھے تو معاشرہ کبھی جنگل نہیں بنے گا لیکن اس کو سدھرنے میں صدیاں لگیں اس لئے اس مرحلے میں پولیس کی چھڑی کام آتی تھی۔اب پولیس خالی ہاتھ ہے۔۔دارالعدل میں ”ملزم“کبھی ”مجرم“ ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ وکیل کے بھی اپنے مسائل ہیں اور ”موشگافیاں“ بھی ہیں۔ان میں بھی شاید سب قانون کے دیوانے نہ ہوں اگر ایسے ہیروز ہوں تو ان کو ”پاگل“ کہا جائے۔۔وکالت واحد عبادت ہے جو حق کی حمایت اور مظلوم کی مدد سے ادا ہوتی ہے۔ ہم واقعی کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ٹریفک قانون میں بے قاعدگیاں ہیں۔دو دن پہلے کی بات ہے میں نے نماز مغرب کے بعدبازار میں قیمتی گاڑی چلاتے ہوئے ایسے بچے کو دیکھا جس کی عمر بمشکل دس سال ہوگی۔۔ گاڑی قیمتی تھی۔ٹریفک پولیس کھڑی تھی مگر کیا کرتی۔شاہی بازار میں ”ون وے ٹریفک“ ہے مگر شام کے بعد یہ ”ٹو وے“ دورویا ہو جاتی ہے اور آوارہ بچے اس میں بغیر ” سائلنسر“ کے بائک چلاتے ہیں کیا یہ آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی؟۔گلہ ٹریفک پولیس سے نہیں ہے گلہ قانون کی ناکامی سے ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھ باندھنے والوں سے ہے آئے روز حادثات ہوتے ہیں پشاور سے چترال کے لئے رات کو سفر ہوتا ہے۔کئی قیمتی جانیں اس غفلت کی نذر ہو گئیں۔دنیا میں ہر کہیں رات کو سفر ہوتا ہے لیکن اس کے اصول ہیں۔ڈرائیور دو ہوتے ہیں۔ایک کو آرام کرنے کا موقع ہوتا ہے۔ٹیکسی میں اوور لوڈ کا تصور نہیں ہوتا گاڑی کو چیک کیا جاتا ہے کیا وہ سفر کے قابل ہے۔ہمارے ہاں ایسی کوئی میکینیزم کا تصور نہیں۔ہم بار بار پشاور کا سفر کرتے ہیں ہم نے ڈرائیوروں کو منشیات استعمال کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے یہ ان کو کون مہیا کرتا ہے ان ہوٹلوں سے بھی واقف ہیں اور ان ڈرائیوروں کے ساتھ سفر کا بھی تجربہ ہے جو اپنی گاڑی میں میوزک نہیں لگاتے اللہ کا نام ہمہ وقت زبان پہ ہوتا ہے نماز کے لئے گاڑی کھڑی کرتے ہیں مسافروں کا خیال رکھتے ہیں لیکن سب اچھے بھی نہیں ہیں اور سب برُے بھی نہیں ہیں۔اگر قانون کا شکنجہ سخت ہو تو دونوں اس شکنجے میں ہونگے۔پشاور کے ان اڈہ والوں کی اپنی من مانیاں ہیں وہ بھی قانون سے آزاد ہیں۔ان بے قاعدگیوں کی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں۔ان کی بڑی وجہ صرف ڈرائیور بھائیوں کی غفلت ہے۔ثبوت ہیں کہ ڈرائیور بھائی ڈراوئنگ کرتے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ ساری رات اکیلے میں گاڑی چلاتے ہیں اور سارے مسافر سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ تھک جاتا ہے اور نیند کے ہاتھوں کمزور انسان بے بس ہوجاتا ہے۔حادثہ ہوتا ہے جان مال دونوں کا زیاغ ہوتا ہے پھر افسوس ہوتا ہے لیکن متاثرہ خاندانوں پر جو گزرتا ہے اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہوتا۔کیا ہم پر فرض نہیں کہ ہم سب مل کر اس پر سوچیں اس کا مداوا کریں۔لوئر چترال سے گاڑیاں اپر چترال کو سفر کرتی ہیں وہ سب اوور لوڈ ہوتی ہیں اور روڈ نام کی ان پکڈنڈیوں میں دوڑتی ہوئی عرق ہوجاتی ہیں۔۔ہمارا قانون ان مسئلے کے حل میں بے بس نظر آتا ہے۔ہمارے جوان پولیس کی یونیفارم میں بہت سجتے ہیں لیکن وہ قانون کے بھی ہیرو بن جائیں توزمانہ ان کو یاد کرے۔چترال پولیس میں آج کل ”کارکردگی“ کی قدر کی جاتی ہے آئے روز جوانوں کو انعامات سے نوازا جاتا ہے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے یہ ایک کلچر ہی نہیں ایک عملی اقدام بھی ہے اس کے بل بوتے پر دوسرے جوان اپنی کار کردگی بہتر بنائیں گے۔ہم عام شہری یہ نہیں کہہ سکتے کہ پولیس کو ”وہ چھڑی“ واپس دلائی جائے جس کو لوگ ”پولیس گردی“ کہنے لگے تھے۔اگر ”پولیس گردی“ بھی ان کی زبان میں کوئی کلچر کوئی ٹرم ہے تو وہ بھی قانون کا ہلکا پن ہے ورنہ تو قانون سب کے لئے ہے۔ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں پہ فخر ہے کیونکہ یہ ہمارے ادارے ہیں لیکن ہم پر قانون نافذ کرتے ہوئے اگر ان کو کوئی دشواری ہے تو جوان مردی سے اس کا مقابلہ کریں چاہے ہم مٹ جائیں مگر اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہو۔

Facebook Comments