تازہ ترین

وفاقی کابینہ نے افغان مہاجرین کی پاکستان میں داخلے پر پابندی

اسلام آباد (  آوازچترال) افغانستان میں ایمرجنسی کی صورت میں افغان مہاجرین کے ساتھ دہشتگردوں کے بھی پاکستان میں داخل ہونے کا خدشہ، وفاقی کابینہ نے افغان مہاجرین کی پاکستان میں داخلے پر پابندی کی سفارش کر دی- تفصیلات کےمطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی افغانستان میں واپسی یا افغانستان میں کسی ایمرجنسی کی صورت میں دہشتگردوں کے پاکستان میں داخل ہونے کا خدشہ ہے- اس خدشے کے پیش نظر کابینہ اجلاس میں افغان مہاجرین کی پاکستان میں داخلے پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے- کسی بھی ایمرجنسی میں اگر افغان مہاجرین پاکستان آتے ہیں تو انہیں خاص کیمپوں میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں افغان پالیسی پر تفصیلی مشاورت کی گئی ہے، افغان مہاجرین کی پاکستان داخلے پر پابندی اور مہاجرین کیلیے ایران ماڈل پر بریفنگ دی گئی۔ وزارت سیفران کی سمری پر وفاقی کابینہ کے ارکان تقسیم ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق معید یوسف کا سمری آج ہی منظور کروانے پر اصرار تھا ،جبکہ وزراء نے وزیراعظم کو سمری کو موخر کرنے کا مشورہ دے دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں داخلے پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے، کسی بھی ایمرجنسی میں اگر افغان مہاجرین پاکستان آتے ہیں تو انہیں خاص کیمپوں میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے،افغان مہاجرین کیلیے ایرانی طریقہ کار اختیار کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔ وزیراعظم نے افغان پالیسی پر کابینہ میں لائی جانے والی سمری کو موخر کر دیا ہے، وزیراعظم نے وزراء کو افغان پالیسی پر غیر ضروری بیانات دینے سے بھی روک دیا۔ وزیراعظم نے معید یوسف، شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری کو افغان پالیسی کیلیے اہم ٹاسک سونپ دیا۔افغان پالیسی پر تینوں وزیر حکومتی موقف تیار کریں گے، فواد چوہدری کل قومی سلامتی سے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کریں گے، اجلاس میں دیگر وزراء بھی شریک ہوں گے۔ گزشتہ روز اپنے بیان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ پاکستان نے افغان بھائیوں کی بھرپور میزبانی کی، اب افغان مہاجرین کی اپنے ملک باعزت واپسی کا وقت آگیا ، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے اقدامات کیے ہیں تاہم مہاجرین کی واپسی کے دوران دہشت گردوں کے پاکستان میں داخل ہونے کا شبہ ہے، افغانستان سے محلقہ بارڈر پر فینسنگ مکمل کردی، ٹیرر فنانسنگ کے خلاف قانون سازی کررہے ہیں مزید اقدامات بھی کریں گے۔ اسی حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی بین المذاہب طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال کے بعد پاکستان کو ہدف بنایا جارہاہے، ہم مزید مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، علما نے طالبان اور افغان حکومت سے اپیل کی کہ آپ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، پاک افغان علما کانفرنس نے کوئی فتویٰ نہیں دیا۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button