تازہ ترین

وزراء کی آج سےنہ اضافی سیکیورٹی نہ پروٹوکول، وزیراعظم کافیصلہ حقیقت بن گیا

 اسلام آباد  ( آوازچترال ) وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزراء سے اضافی سکیورٹی واپس لینے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن اور اسلام آباد پولیس نے کئی وفاقی وزراء سے اضافی سکیورٹی واپس لی ہے۔آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد اضافی سکیورٹی واپس لی گئی ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ جن وفاقی وزراء سے اضافی سکیورٹی واپس لی گئی ہے ان میں شیریں مزاری اور پرویز خٹک بھی شامل ہیں۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ مجھے سکواڈ کی گاڑی تک نہ دی گئی اس کے باوجود میری سیکیورٹی کیوں کم کی گئی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزراء کی سکیورٹی پر مامور 5 اہلکاروں میں سے 3 کو واپس بلا لیا گیا ہے، وفاقی وزراء کے ساتھ سکیورٹی کے لیے اب اسلام آباد پولیس کے صرف دو اہلکار موجود رہیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو دی گئی نفری برقرار رہے گی جبکہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو دی گئی اضافی نفری میں بھی کمی کردی گئی ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں پروٹوکول کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ واضح رہےخیبرپختونخوا میں سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات سے بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی۔ حکم نامہ کے مطابق قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ، ن لیگ کے امیر مقام اور ڈاکٹر افتخار سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما و سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر ہوتی سے ایلیٹ فورس کے 8 اہلکار واپس لے لیے گئے۔ اس کے علاوہ ایمل ولی خان اور میاں افتخار حسین سے بھی ان کی حفاظت پر مامور ایلیٹ فورس کے تمام اہلکار واپس بلالیے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی انور تاج اور سینیٹر ایوب آفریدی سے بھی سیکورٹی واپس لی گئی ہے جبکہ ایم پی اےفلک ناز اور اے این پی رکن صلاح الدین سے بھی اہلکار واپس بلا لیے ہیں۔ سابق ڈی جی نیب خیبرپختونخوا ناصر فاروق اعوان سے بھی7 ایلیٹ اہلکار واپس لے لیے ہیں۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان کا کہنا تھاکہ سیکیورٹی کا کوئی شوق نہیں، خطرات کے پیش نظر ریاست نے ہی سیکیورٹی فراہم کی تھی، اس قسم کے اقدامات ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتےانہوں نے کہا کہ سیکیورٹی واپس کرنے کے بعد نقصان پہنچنے پر ذمے داری حکومت پر عائد ہوگی۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button