تازہ ترینکاروبار

چترال کے اضلاع میں معدنیات کو لیز میں دینے کے لئے بڑے اسکیل پر15مختلف بلاکس میں تقسیم کے عمل کو ختم کیا جائے…سرتاج احمد خان

چترال (نمائندہآوازچترال) چترال مائنز اونرز ایسوسی ایشن اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے خیبر پختونخوا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ لویر اور اپر چترال کے اضلاع میں معدنیات کو لیز میں دینے کے لئے بڑے اسکیل پر15مختلف بلاکس میں تقسیم کے عمل کو فی الفور ختم کیا جائے کیونکہ جن مقاصد کو سامنے رکھ کر بڑے بلاکس بنائے گئے تھے، وہ قطعی طور پر حاصل نہ ہوسکے اور اس پالیسی کا الٹا اثر ہوااور یہ معدنیات کی ترقی کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کررہ گئی ہے۔ بدھ کے روز چترال پریس

کلب میں مائنزاونر ایسوسی ایشن کے صدر سرتاج احمد خان نے مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے سربراہاں بشیر احمد خان، مولانا اخونزادہ رحمت اللہ، مولانا جمشید احمد،الحاج عید الحسین، لیاقت علی، شیخ صلاح الدین، عبدالغفار، محمد وزیر خان، شیر عالم خان اور دوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ باہر سے بڑے سرمایہ کاروں کو چترال میں معدنیات کے سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لئے چترال کو معدنیات کے لحاظ سے پندرہ بڑے بلاکس میں تقسیم کیا گیا تھا لیکن یہ سوفیصد ناکام ثابت ہوا اور لواری ٹنل کی تکمیل اور ٹرانسپورٹیشن کا مسئلہ حل ہونے کے باوجود ابھی تک کسی لیز ہولڈر نے کام نہیں کیا جبکہ مائننگ کے مقامی خواہش مند افراد کی راہیں بھی ان کی وجہ سے مسدود ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ پورے چترال کو 175کلومیٹر بڑے بلاکوں کی بجائے 200ایکڑ کے چھوٹے بلاکوں میں تقسیم کئے جائیں تاکہ مقامی افراد اہلیت حاصل کرکے ان معدنیات کی کامیاب نکاسی کا عمل شروع کرسکیں جس کے نتیجے میں علاقے میں ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے دونوں اضلاع دھاتی اور غیر دھاتی معدنیات سے وسائل سے مالا مال ہے اور وسطی ایشیاء اور چین سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ایک بین الاقوامی مارکیٹ بن سکتا ہے۔ اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندو ں نے بڑے بلاکس کے خاتمے میں مائنز ایسوسی ایشن چترال کی مکمل حمایت کا اعلا ن کردیا۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button