تازہ ترینکاروبار

اوگرا کی یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تیاری

اسلام آباد(  آوازچترال) اوگرا نے یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تیاری کرلی ہے، سمری میں پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اوگرا نے یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز دے دی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کردی گئی ہے۔ سمری میں یکم جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا کی سمری میں پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ موجودہ پیٹرولیم لیوی کے مطابق ہے۔   وزارت خزانہ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کل کرے گی۔ واضح رہے 16 جون2021ء کو حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی پٹرولیم لیوی میں کمی کردی تھی، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی پٹرولیم لیوی میں کمی جبکہ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر سیلز ٹیکس میں اضافہ کردیا ہے۔ پٹرول پر فی لیٹر لیوی میں ایک روپے 83 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر لیوی میں ایک روپے 53 پیسے کی کمی کی گئی۔ پٹرول پر لیوی 4 روپے 80 پیسے سے کم کرکے 2 روپے 97 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 5 روپے 14 پیسے سے کم کرکے 3 روپے 61 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح پٹرول کے فی لیٹر پر سیلز ٹیکس31 پیسے اور  ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر سیلز ٹیکس میں 26 پیسے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ اسی طرح پٹرول پر سیلز ٹیکس 15 روپے77 پیسے سے بڑھ کر 16 روپے 8 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر سیلز ٹیکس 16 روپے 9 پیسے سے 16 روپے 35 پیسے ہوگیا ہے۔ یاد رہے حکومت نے گزشتہ روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت نے پٹرول فی لیٹر 2 روپے 13 پیسے، لائٹ اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 3 پیسے جبکہ مٹی کا تیل 1 روپیہ 89 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 1 روپے 79 پیسے مہنگا کر دیا۔ اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 110 روپے 69 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 112 روپے 55 پیسے، لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمے 79 روپے 68 پیسے، جبکہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 81 روپے 89 پیسے ہوگئی، نئی قیمتوں کا اطلاق گزشتہ رات رات 12 بجے سے ہوچکا ہے۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button