69

وزیراعلیٰ نے ایٹا کے اصلاحاتی پلان پر اتفاق کرلیا

پشاور (آوازچترال )وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی کی استعداد کار کو بڑھانے، ٹیسٹوں کے انعقاد میں سو فیصد شفافیت کو یقینی بنانے اور اسے سرکاری سطح پر تمام بھرتیوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں ادارے کی ری اسٹریکچرنگ اور دیگر امور میں بہتری کے لئے مجوزہ اصلاحاتی پلان سے اصولی اتفاق کیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مجوزہ اصلاحاتی پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے تمام تر اقدامات بروقت مکمل کئے جائیں۔  انہوں نے کہا کہ ایٹا سرکاری سطح پر بھرتیوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لئے تحریری امتحانات کے انعقاد کا ایک بااعتماد ادارہ ہے جس کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔  انہوں نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ اصلاحات کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کو ٹیسٹنگ کے سلسلے میں کسی دوسری ٹیسٹنگ ایجنسی کی ضرورت نہیں رہے گی۔     وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ایٹا میں اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔  وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش، سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایٹا اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو ایجنسی کی ذمہ داریوں، موجودہ اسٹرکچر اور مجوزہ اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔  اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کی خصوصی ہدایا ت پر ایٹا کو مضبوط بنانے کے لئے متعدد اصلاحاتی اقدامات کا پلان تیار کیا گیا ہے جو حتمی منظوری کے لئے ایٹا کے بورڈ آف گورنرز کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں کے لئے داخلوں کا ٹیسٹ، محکمہ پولیس کے لئے پروموشنل امتحانات، انجنیئرنگ یونیورسٹیز کے لئے انٹری ٹیسٹ، تمام محکموں کے لئے سٹاف کی بھرتیوں کے لئے ٹیسٹ اور دیگر سکالرشپ امتحانات کا انعقاد ایٹا کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔  اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ایٹا کے بنیادی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے موجودہ تنظیمی ڈھانچے میں ضروری اصلاحات کی ضرورت ہے آئی ٹی ماہرین اور دیگر سٹاف کی ہائیرنگ کا عمل بھی شروع ہے۔ ایٹا کے لیگل فریم ورک کی مضبوطی کے لئے فنانس ریگولیشنز اور سروس ریگولیشنز کے مسودے، مختلف امور کی انجام دہی کے لئے ایس او پیز کے علاوہ ہر پوزیشن کے لئے جاب ڈسکرپشن تیار کر لئے گئے ہیں، جو اگلے ماہ کے وسط تک بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں باضابطہ منظوری کے لئے پیش کئے جائیں گے۔   امیدواروں کی شکایات کے ازالے اور ان کو سہولیات کی فراہمی کے لئے آن لائن ریکوزیشن سسٹم اور ٹکٹ مینجمنٹ سسٹم وضع کیا جارہا ہے جبکہ کال سنٹر کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔ تمام امیدواروں کے لئے آن لائن پروفائل مینجمنٹ سسٹم وضع کیا گیا ہے۔  پیپر آٹومیشن کے اقدام کے تحت سسٹم بیسڈ پیپر جنریٹر تیار کیا جارہا ہے۔ رواں سال ستمبر کے اختتام تک کمپیوٹربیسڈ ٹیسٹنگ سسٹم کا بطور پائلٹ پروجیکٹ اجراء کردیا جائیگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکریسی آٹومیشن اقدام کے تحت ٹرانسپورٹیشن مینجمنٹ سسٹم وضع کیا جارہا ہے اور اس مقصد کے لئے موبائل ایپ تقریباً تیار ہے، جس کے ذریعے متعلقہ لیٹریچر وغیرہ کے اوپن کرنے کی اطلاع خود کار طریقے سے مل جائے گی۔  اس کے علاوہ فیسوں کی ادائیگی کے لئے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم وضع کیا جارہا ہے جبکہ پیپر لس آفس مینجمنٹ اور نادرا کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق کے نظام پر بھی کام شروع ہے جس سے امتحانات کے انعقاد میں شفافیت یقینی ہوگی۔ امتحانی مراکز کی موثر نگرانی کے لئے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے افراد، دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں اور ایکسپیکشن ٹیموں کے اہلکاروں پر مشتمل مانیٹرنگ ٹیمیں تعینات کی جائے گی۔  ایٹا کی اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ سات ہزار سے زائد امیدواروں کے انجنیئرنگ انٹری ٹیسٹ منعقد کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 39 مختلف محکموں میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد خالی آسامیوں پر بھرتی کے لئے تین لاکھ سے زائد امیدواروں کے ٹیسٹ لئے گئے ہیں۔  اسی طرح گیارہ مختلف اداروں میں 52ہزار سے زائد امیدوروں کے ایڈمیشن اور پروموشنل ٹیسٹ منعقد کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مجوزہ اصلاحاتی اقدامات سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام تر اقدامات کا بروقت نفاذ یقینی بنایا جائے۔  انہوں نے کہا کہ اصل مقصد ایٹا کو مضبوط بنانا ہے کیونکہ صوبائی حکومت تمام قسم کی بھرتیاں ایٹا کے ذریعے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جس ضلع میں بھی امتحانات کا انعقاد مقصود ہو اس کی انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دی جائے۔ ضلع انتظامیہ اور محکمہ پولیس سمیت تمام متعلقہ ادارے ایٹا سے تعاون یقینی بنائیں تاکہ ایک پر امن اور شفاف ماحول میں ٹیسٹوں کا انعقاد یقینی ہو سکے۔ انہو ں نے مزید ہدایت کی کہ ٹیسٹوں کے انعقاد کے لئے ممکنہ حد تک ان ڈور ٹیسٹنگ کو ترجیح دی جائے۔

Facebook Comments