90

چترال میں گرمی کا آغاز ہوتے ہی قدرتی برف کی چترال شہر میں فروخت شروع

چترال ( محکم الدین ) چترال میں گرمی کا آغاز ہوتے ہی قدرتی برف کی چترال شہر میں فروخت شروع ہو چکی ہے ۔ اور مختلف مقامات سے قدرتی برف شہر پہنچائی اور فروخت کی جارہی ہے ۔ اس برف کو فالودہ بنانے شربت کی تیاری اور پانی ٹھنڈا کرکے پینے کیلئے کام میں لایا جاتا ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس برف میں مصنوعیت کا اثر نہیں ہے ۔ اس لئے یہ اپنے قدرتی ساخت کی وجہ سے ذائقے میں بہترین ہے ۔ فرحت بخش مشروبات کے لطف کو دوبالا کرتا ہے ۔ اور کئی ایک بیماریوں کیلئے بہت مفید ہے۔ خصوصا گر میوں میں پھیلنے والی پیٹ کی بیماریوں کیلئے اکسیر کا کام کرتی ہے ۔ اور قدیم زمانے سے برف ( یوز) ایک مجرب دواکے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے ۔ چترال کے والیان ریاست گرمائی

محل بیرموغ لشٹ کے احاطے میں بڑی بڑی خندقین کھود کر سردیوں میں برف سے ان خندقوں کو بھردیتے تھے ۔ اور گرمیوں میں انہیں استعمال میں لاتے تھے ۔ چترال میں کاروباری طور پر برف کا استعمال درہ لواری کے گلیشئیر سے ہوا ۔ اس وقت لواری سرنگ کی بجائے آمدورفت لواری ٹاپ کے راستے سے ہوتی تھی ۔ اور مسافر کئی گلشئیرز کو عبور کرکے سفر کرتے تھے ۔ جہاں آسان رسائی کی وجہ سے گرمیوں کے موسم میں برف کو کاٹ کاٹ کر فروخت کیا جاتا رہا ۔ اس وقت لواری کے قریب رہنے والے عشریت کے باشندے صرف مزدوری حاصل کرکے برف کے بلاک تیار کرتےتھے۔ اور روزانہ کی اجرت حاصل کرتے تھے ۔ لیکن چند سال پیشتر انہوں نے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا اور سالانہ اسے گاوں کی سطح پر کمیٹی قائم کرکے باقاعدہ طور پر ٹھیکہ پر فروخت کرنے لگے ۔ جس سے تین سے پانچ لاکھ روپے رائلٹی حاصل کی جاتی تھی ۔ اور یہ برف گاڑیوں میں چترال کے مختلف شہروں خصوصا دروش ایون و چترال شہر کے علاوہ دیر ، تیمر گرہ ، بٹخیلہ درگئی اور مردان تک پہنچا کر فروخت کئے جاتے تھے ۔ برف کے اس کاروباری سطح پر فروخت سے پہلے لواری درے کے نالے میں گرمیوں کے موسم میں وافر مقدار میں پانی ہوتی تھی ۔ اب اس نالے میں ایک نہر جتنا پانی دستیاب نہیں ہے ۔ کیونکہ لواری کی پہاڑی کھائیوں ، گھاٹیوں اور خندقوں میں موجود گلیشئیر کے قدیم خزانے ختم ہو چکے ہیں ۔ جبکہ عالمی حدت کی وجہ سے برف باری کی مقدار میں ناقابل یقین حد تک کمی آئی ہے ۔ اور برف کے پگھلاو میں بھی بہت زیادہ تیزی آئی ہے ۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے ۔ کہ برف کے یہ خزانے ہماری زندگی کی بقا کی ضامن ہیں ۔ اگر ہم نے ان خزانوں کو غیر دانشمندانہ استعمال سے نہیں روکا ۔ تو آنے والی نسلوں کیلئے چترال کی وادی میں زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے ۔ کہ قدرت کے بعض نعمتیں اجتماعی فائدے کیلئے ہیں ۔ جن میں برف کے خزانے ( گلیشئیرز) بھی شامل ہیں اس لئے کاروباری سطح پر برف کو فروخت کرنے والوں کو نہیں روکا گیا ۔ تووقت گزرنے کے بعد چترال کے لوگوں کو پچھتانے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔ درہ لواری کے گلئشیر کے خاتمے کے بعد اب تریچ کے برف کی کاروباری سطح پر فروخت اور بھی تباہ کن ہے ۔ اگر ماحولیاتی اداروں نے اس پر توجہ نہیں دی ۔تو آنے والے خطرات میں مزید اضافہ ہو گا ۔ اور قدرتی برف کے خزانے ہمارے غیر دانشمندانہ اقدامات کی وجہ سے ختم ہو جائیں گے ۔ اس وقت زندگی کی بقا کو درپیش خطرات سے مقابلہ کرنا چترال کے لوگوں کے لئے ممکن نہیں رہے گا ۔

Facebook Comments