تازہ ترین

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاہدہ

اسلام آباد ( آوازچترال)حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی اسمبلی کا اجلاس پرامن انداز میں چلانے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے رکن کیخلاف سخت تادیبی کارروائی کرنے کا معاہدے طے پا گیا۔ اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی‘ 7 ارکان کے ایوان میں داخلے پر پابندی ختم ایوان میں سینی ٹائزر کی بوتلیں لانے پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ10جون کو منظور ہونے والے بل(الیکشن ترامیمی بل،کلبھوشن یادیو سے متعلق بل سمیت30بل) پر نظرثانی کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی12رکنی کمیٹی کی تشکیل کا معاہدہ بھی طے پا گیاجسکے بعد اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لی۔ معاہدے کے تحت حکومت اور اپوزیشن کے لیڈران کی تقریر پر غیر ضروری مداخلت نہیں ہو گی،وزیر اعظم،اپوزیشن لیڈر،پارلیمانی لیڈرز  سمیت  تمام ارکان کا ذاتی احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے گا،ذاتی حملے کرنے،رولز کا احترام نہ کرنے،گالم گلوچ  پر سخت تادیبی کارروائی کی جائیگی،غیر پارلیمانی طرز عمل اور الفاظ کی اجازت نہ ہو گی۔ جمعرات کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کا سپیکر آفس میں  اہم اجلاس ہوا،جس میں گزشتہ 3دنوں سے  قومی اسمبلی اجلاس میں پیدا ہونے  صورتحال کا جائزہ لیا گیا،جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی اسمبلی کا اجلاس پرامن انداز میں چلانے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے رکن کیخلاف سخت تادیبی کارروائی کرنے کا معاہدے طے پا گیا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے کو سپیکر  اس قیصر نے ایوان میں پڑھ کر سنایا اور کہا کہ  معاہدے کے تحت حکومت نے 10جون کو جو قوانین (الیکشن ترامیمی بل،کلبھوشن یادیو سے متعلق بل سمیت30بل)ایوان سے منظور کروائے ان پر اپوزیشن کا موقف ہے کہ وہ قانونی تقاضے پورے کئے بغیر عجلت میں منظور کروائے گئے،جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ قانون سازی قانون اور آئینی تقاضے پورے کر کہ کی گئی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں طے ہوا ہے کہ ان بلوں پر  ایک کمیٹی بنا کر انکا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا،وہ تمام بل اب سینیٹ میں پیش ہو چکے ہیں اور سینیٹ کی قانون و انصاف کمیٹی کو  ارسال ہو چکے ہیں اس لئے قائم کی گئی کمیٹی اس  کے قانونی طریقہ کار کا جائزہ بھی لے گی،ان بلوں کی وجہ سے اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کیخلاف عد م اعتمادکی تحریک پیش کی تھی اس لئے کمیٹی کے قیام کے بعد اپوزیشن ڈپٹی سپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لے گی۔ مجھے کوئی وزیر فوٹیج میں ہلڑ بازی کرتا نظر نہیں آیا،کچھ اراکین پر ایوان میں داخلے پر پابندی لگائی تو اس پر بھی اعتراض کیا گیا۔ میرے پاس صرف اخلاقی طاقت ہے، کسی کو اٹھا کر پھینکنے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری ذمے داری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو ایوان میں برابر کا موقع دوں، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی میں گالی گلوچ کرنیوالے 7 ارکان کے ایوان میں داخلے پر عائد پابندی ختم کر دی۔ ذرائع کے مطابق اسد قیصر نے پابندی معاملات کو سلجھانے اور ماحول خوشگوار رکھنے کیلئے اٹھائی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے متعلقہ اراکین اور سیکورٹی کو آگاہ کر دیا۔دریں  اثناء اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ جمعرات کو قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں اپوزیشن لیڈر اور پیپلزپارٹی کے وفد کے درمیان ملاقات ہوئی۔  راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ ہمارا اعتراض ڈپٹی سپیکر کی طرف سے جلد بازی میں کی گئی قانون سازی پر تھا، سپیکر سے ملاقات میں ہم نے ڈپٹی سپیکر کے کنڈکٹ پر بات کی تھی، سپیکر نے یقین دہانی کروادی ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی طرف سے کی گئی قانون سازی پر دوبارہ غور کیا جائے گا

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button