114

پانچ متاثرین کو فی خاندان ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے سات خاندانوں کو پچاس پچاس لاکھ روپے دیئے جائیں…مولانا عبدالاکبر چترالی

پشاور( آوازچترال)دفتر جماعت اسلامی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے چترال سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ چترال ایک سیاحتی مقام ہے گلگت جانے کے لئے چترال گزرگاہ ہے ملکی و غیر ملکی سیاح چترال کو پسند کرتے ہیں کزشتہ کئی سالوں سے موسمیاتئ تبدیلی کے اثرات سامنے آرہے ہیں گلیشئر پگھل رہے ہیں دوہزار پندرہ سے کئی بار گلیئشر پھٹ چکے ہیں اپر اور لوئر چترال کی سڑک دریائے چترال میں بہہ گئی ہیں بہت سے لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں مرکزی و صوبائی حکومتوں کو بار بار توجہ دلائی گئی ہے مگر کچھ بھی نہیں ہوا چترال سے گلگت اور گلگت سے چترال جانے والے سیاح بھی پھنس گئے ہیں متبادل راستہ شوگراں سے تھا وہ بھی زیادہ ٹریفک کی وجہ سے خراب ہوگیا ہے اپر چترال کے لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیا ختم ہورہی ہیں مرکزی و صوبائی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اس سڑک کو سی پیک میں شامل کیا گیا ہے پانچ روز سے اگر متبادل راستہ این ایچ اے نہیں بنا سکا تو باقی کیا کرے گا وزیر اعلی کے پی کے کو متبادل راستہ بھی دکھایا تھا مگر وہ نہیں مرمت کیا گیا پانچ متاثرین کو فی خاندان ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے سات خاندانوں کو پچاس پچاس لاکھ روپے دیئے جائیں مرکزی و صوبائی حکومت اس علاقے کو آفت زدہ قرار دے کر پیکیج کا اعلان کرے شوگراں پل کو فوری مرمت کیا جائے عیون ویلی کو بھی خطرہ ہے اسے بھی بچایا جائے حکومت ماحولیاتی تبدیلی کی باتیں تو کرتی ہے مگر عمل کوئی نہیں کررہی طغیانی جہاں جہاں آرہی وہاں حفاظتی پشتے تعمیر کئے جائیں مدینے کی اسلامی ریاست ان لوگوں کی مدد کرے

Facebook Comments