25

ایف آئی اے جہانگیر ترین سے پیچھے ہٹ گئی

لاہور ( آوازچترال  ) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کی عبوری ضمانت مکمل ہونے پر عدالت کو آگاہ کیا کہ کسی دونوں کی گرفتاری اس وقت درکار نہیں ہے۔ جہانگیر ترین اور علی ترین شوگر اسکینڈل تحقیقات کی روشنی میں قائم مختلف مقدمات کے حوالے سے عبوری ضمانت مکمل ہونے پر سیشن کورٹ میں پیش ہوئے۔ ایف آئی اے نے عدالت میں بیان دیا کہ اس وقت جہانگیر ترین اور علی ترین کی گرفتاری درکار نہیں اور ایف آئی اے بنیادی انسانی حقوق پر یقین رکھتا ہے، ابھی ہم ریکارڈ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس موقع پر جہانگیر ترین کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ہم درخواست ضمانت واپس لے رہے ہیں۔ جج نے ایف آئی اے کے افسر سے کہا کہ آپ کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیتے ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ جی میں بیان دینے کو تیار ہوں، جس پر عدالت نے ملزمان کو گرفتار نہ کرنے سے متعلق ایف آئی اے کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔ عدالت نے جہانگیر ترین سے استفسار کیا کہ 1991 سے سی ای او رہے ہیں اس سے پہلے کتنے مقدمات درج ہوئے، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کوئی ایک مقدمہ بھی نہیں ہے۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا مقدمہ بنایا گیا ہے، ایف آئی اے کے مطابق جہانگیر ترین نے حصص میں خوردبرد کی لیکن آج تک کوئی شئیرز ہولڈر سامنے نہیں آیا، بینکنگ چینل سے پیسے کا لین دین ہوا۔ عدالت کے سامنے جہانگیر ترین اور علی ترین نے دو مقامات میں ضمانتیں واپس لے لیں جبکہ عدالت نے حکم دیا کہ ایف آئی اے کارروائی سے پہلے عدالت کو آگاہ کرے۔ جہانگیر ترین کی بیکنگ کورٹ میں پیشی جہانگیر ترین اور علی ترین بینکنگ مالیاتی اسیکنڈل کے حوالے سے قائم تیسرے مقدمے میں بھی بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے جہاں جج کے تبادلے کی وجہ سے ایڈیشنل سیشن جج نے سماعت کی۔ بینکنگ کورٹ میں قائم یہ مقدمہ مبینہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرانے سے متعلق ہے۔ جہانگیر ترین کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے دو مقدمات میں درخواست ضمانت واپس لے لی ہے، جہانگیر ترین 10ماہ سے تفتیش کا حصہ ہیں اور وہ دیگر لوگوں کے ہمراہ لگ بھگ 100 مرتبہ پیش ہو چکے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے کو تمام ریکارڈ جمع کرا چکے ہیں، یہ سیاسی مقدمات بنائے جاتے ہیں، امانت میں خیانت کا الزام ہے لیکن کس کی خیانت ہوئی آج تک کوئی شخص سامنے نہیں آیا، شیئر ہولڈرز بھی مطمئن ہیں اور کام کر رہے ہیں، یہ مقدمہ بنایا ہی غلط گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیز کے معاملات کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) دیکھتا ہے لیکن وہاں سے آج تک نوٹس نہیں ملا، عدالت اس کیس کو کھولے گی تو یہ ایف آئی اے سے ناراض ہی ہوگی۔ اس موقع پر جج نے کہا کہ بطور جج اس معاملے پر کمنٹ نہیں کرنا چاہتا، ہمیں قانون اور آئین کے مطابق چلنا ہے۔ سماعت کے دوران ایف آئی اے نے بیان دیا کہ جہانگیر ترین اور علی ترین کی تیسرے مقدمے میں بھی گرفتاری درکار نہیں ہے۔ ایف آئی اے نے بیان میں کہا کہ قانونی کارروائی سے پہلے درخواست گزار کو مطلع کیا جائے گا، جس کے بعد جہانگیر ترین اور علی ترین نے بھی تیسرے مقدمے میں درخواست ضمانت واپس لے لی جبکہ عدالت نے درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔ اس موقع پر عدالت کا جہانگیر ترین سے مکالمہ بھی ہوا ہے، جب عدالت نے کہا کہ آپ بیٹھ کر دستخط کردیں، جس پر جہانگیر ترین نے کہا کہ عدالت کے سامنے دستخط کرنے سے زیادہ خوشی ہوگی، اس طرح جہانگیر ترین اور علی ترین نے ضمانت واپس لینے کے بیان پر دستخط کردیے۔ مشکل وقت گزر گیا، جہانگیر ترین عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ مشکل وقت تھا گزر گیا، جس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، آج خوشی ہے 10 مہینے کی تفتیس میں 100 چکر لگے ہیں، قانون کا سامنا کیا اور کرتے رہیں گے۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ مقدمے کا بجٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ اب تینوں ایف آئی آرز میں گرفتاری نہیں ہوگی، کیس میں گرفتاری کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے پاس تمام کاغذات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس میں کوئی مدعی نہیں ہے، منی لانڈرنگ کیس میں بھی کوئی ثبوت نہیں، اس حوالے سے تفتیش مکمل ہے اور تمام کاغذات بھی جمع کروا چکے ہیں، ایف آئی اے نے ایسے مقدمات کی کبھی تفتیش نہیں کی

Facebook Comments