58

بجٹ میں فون کالز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

اسلام آباد ( آوازچترال) حکومت نے بجٹ میں فون کالز پر ایجوکیشن ٹیکس عائد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیلیفون اور موبائل کالز پر ایک روپے فی کال ایجوکیشن لیوی عائد کرنے سے انکار کر دیا۔حکومت نے وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تجویز مسترد کر دی۔ اس حوالے سے وزارت خزانہ کے ذریعے نے بتایا کہ وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی و ہائر ایجوکیشن کے سربراہ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے تجویز دی تھی کہ موبائل کالز اور ٹیلی فون کالز پر ایک روپے فی کال کے حساب سےایجوکیشن لیوی عائد کی جائے۔اور اس سے حاصل ہونے والے ریونیو کو ہائر ایجوکیشن کے فروغ کے ساتھ ساتھ نالج اکانومی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق وزارت تعلیم سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز نے اس تجویز کی مخالفت کی اور وزیراعظم نے بھی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس کے باعث اسے بجٹ میں شامل نہیں کیا جا رہا۔وزارت تعلیم نے بھی موبائل فون اور ٹیکلیفون کالز پر ایک روپے فی کال ایوجکیشن لیوی عائد کرنے کی تجویز کی مخالفت کی تھی۔خیال رہے کہ قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2021-22 کیلئے مجموعی طور پر 2102ارب کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا ہے۔ وفاق کا بجٹ 900 ارب اور صوبوں کیلئے 1202 ارب بجٹ منظورکیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کیلئے شرح نمو 4.8 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کے ٹیکس ہدف، بجلی اور گیس کی قیمتوں سے متعلق ڈیڈلاک برقرار ہے، حکومت نے 140سے 200ارب کے اضافی ٹیکسز لگانے کی شرط ماننے سے انکار کردیا ہے، آئندہ بجٹ میں متعدد شعبوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ کے خاتمے پر بھی اتفاق نہ ہوسکا، ایف بی آر نے آئندہ بجٹ میں کچھ شعبوں کو کھلی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی سفارش کی، جبکہ ایف بی آر متعدد شعبوں کو ضروری ٹیکس چھوٹ جاری رکھنے کی بھی سفارش کی۔ وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان اپنے طریقہ سے ٹیکس بڑھانا چاہتا ہے۔ اسی طرح وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عمران خان کی حکومت استحکام لانے کی کوشش کی، کورونا کے باوجود موجودہ حکومت اقتصادی شرح نمو 4 فیصد تک لے آئی۔ ہم جی ڈی پی گروتھ اگلے سال 5 فیصد اور اس سے اگلے سال6 فیصد دیکھ رہے ہیں۔ ہم زراعت ، انڈسٹری کو مراعات دیں گے، ایف بی آر کی ہراسمنٹ کوختم کریں گے۔ ٹیکس پر ٹیکس نہیں لگائیں بلکہ ٹیکس کے دائرے کو بڑھائیں گے۔

Facebook Comments